مولانا کی آئیڈیالوجی
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۶۰
اسلامی، علمی و فکری روایات کا سنگ میل سید سعادت اللہ حسینی ، امیر جماعت اسلامی ہند مولانا وحید الدین خاں کی رحلت سے بہت صدمہ پہنچا۔ مولانا بلا شبہ ان مفکرین میں سے ہیں جنہوں نے موجودہ زمانے پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ ملک میں مختلف مذہبی فرقوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے اور ان کے درمیان مکالمہ و تبادلہ خیال کی فضا پیدا کرنے میں مولانا کا کردار نا قابل فراموش ہے۔ اسلام کو جدید اسلوب میں اور محکم سائنسی و منطقی دلائل کے ساتھ پیش کرنے کے لیے مولانا مرحوم کی کوششیں بھی ان شاء اللہ ان کے لیے صدقہ جاریہ بنیں گی۔ مذہب اور جدید چیلنج، عظمت قرآن، اسلام دور جدید کا خالق، پیغمبر انقلاب وغیرہ جیسی معرکہ آرا تصانیف نے، مولانا کو برصغیر کی اسلامی علمی روایات کا ایک اہم سنگ میل بنا دیا ہے۔
مولانا اردو نثر کے ایک بالکل منفرد اور بڑے پر کشش اسلوب کے بانی ہیں۔ انتہائی سادہ زبان میں بڑے اختصار کے ساتھ گہرے علمی مضامین کو بیان کرنے کا جو اسلوب مولانا نے ایجاد کیا وہ بلا شبہ ان کا غیر معمولی کمال تھا اور اس نے کئی نسلوں کے اسلوب تحریر پر اثر ڈالا ہے۔ انگریزی اور مختلف علاقائی زبانوں میں پرکشش لٹریچر کی تیاری بھی ان کا عظیم کارنامہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں لمبی عمر عطا کی اور اس لمبی عمر کا پورا حصہ جس خوبی سے انہوں نے بڑے کاموں کے لیے استعمال کیا اور جتنا بڑا علمی ورثہ چھوڑ گئے ہیں، اس پہلو سے بھی وہ ہماری حالیہ تاریخ میں منفرد ہیں۔ دین کی تعبیر اور ہندوستان میں ملت اسلامیہ کے رویوں اور طریقہ کار پر مولانا مرحوم کے مخصوص خیالات تھے۔ ان خیالات سے بہت سے اہل علم نے بجا طور پر اختلاف بھی کیا ہے۔ لیکن ان کی وجہ سے مولانا کے علمی کارناموں اور ان کی عظیم خدمات کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ وہ جدید علم کلام کے اساطین میں سے ایک ہیں۔ اور ان شاء اللہ ان کے علمی کاموں سے اسلام کے خادمین فیض یاب ہوتے رہیں گے اور عام انسانیت بھی ان کی تصانیف کے واسطے سے اسلام سے متعارف ہوتی رہے گی۔ مولانا سے ذاتی طور پر میں نے بھی بہت استفادہ کیا ہے۔ بچپن ہی سے ان کی کتابیں اور
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues