Al-Risala · August 2021 · page 66

وحید الدین خان کی رحلت

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۶۶

موت العالم موت العالم خواجہ عبد الرسول، سجادہ نشین خانقاہ جنید یہ مولانامواحید الدین خاں بھی چل دیے، وحید الدین خاں صاحب ایک بے نام صوفی تھے۔ ایک ایسے صوفی جنہوں نے کبھی لفظ صوفی استعمال نہ کیا۔ لیکن انہوں نے جو تعلیمات اپنی گرانقدر کتب میں چھوڑی ہیں وہ در حقیقت اصل تصوف ہے۔ انہوں نے علمائے ظواہر کی سیاسی تعبیر دین سے ہٹ کر دین کا مخاطب فرداور فقہی موشکافیوں کے بجائے تزکیہ نفس کو قرار دیا۔ ان کا سارا وسیع علمی کام انسان کے اخلاقی وجود کو مخاطب کرتا ہے۔

آپ نے جدید اذہان کو دین کی حکمت سمجھانے کے لیے خالصتاً ادیبانہ اور سائنسی اسلوب اختیار کیا۔ مولانا کی تفسیر، تذکیر القرآن، بلاشبہ دور حاضر کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بلا دلیل مقاصد تصوف کی بلند پایہ تفسیر ہے۔ جس میں اگر چہ صوفیانہ قیل و قال، فنی اصطلاحات اور فقہی و کلامی موشکافیاں تو نہیں البتہ جو تصوف کا مقصود ہے یعنی انسانی تزکیہ اور تصفیہ قلب وہ سب موجود ہے۔ وحید الدین خاں اگر چہ علمائے ظواہر کے نزدیک نا پسندیدہ شخصیت تھے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ انہوں نے فرقہ واریت سے اوپر اٹھ کر دین کو ترجیح کا مؤید ثابت کر کے انتہائی اہم خدمات سر انجام دی ہے۔ اختلاف علمی تو ارتقائے علمی کا موجب ہوا کرتا ہے وہ تو ہمیں بھی بعض جزئیات میں مولانا سے ہو سکتا ہے لیکن بحیثیت مجموعی وہ ایک بلند پایہ ادیب، محقق اور مفسر تھے جن کے اثرات تاریخ حذف نہیں کر سکتی۔ ہم ان کے لواحقین، متعلقین اور تلامذہ سے اظہار تعزیت کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی بلندیٔ درجات کے لیے دعا گو ہیں۔

میں اگر کسی اسلامی عالم سے متاثر ہوا ہوں تو وہ یہی ہستی تھی۔ اسلام کا سچا چہرہ دکھانے والے۔ اللہ رب العزت کی عطا کردہ انسانی ذہانت کا شاہکار۔ (عمران علی، کراچی)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page