وحید الدین خان کی رحلت
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۶۷
ایک یادگار گفتگو جو قلب و ذہن پر گہرے نقوش چھوڑ گئی مولانا غلام قادر باندے، مہتمم جامعہ ضیاء العلوم، پونچھ یہ غالباً 1970ء کی بات ہے جب میں مادرِ علمی دارالعلوم دیوبند سے تازہ دم فارغ ہوا تھا اور دارالعلوم محمدیہ میل کھیٹر راجستھان میں تدریسی خدمات انجام دے رہا تھا، دوپہر کی دھوپ کے وقت ایک الگ سایہ دار جگہ پر ہم چند نوجوان فضلاء اپنی معمول کی بات چیت میں مصروف تھے تو دیکھا ایک بارعب شخص جو عالمانہ وضع قطع کے مالک تھے، ہمارے درمیان بے تکلفی سے آبیٹھے اور انہوں نے شائستہ علمی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے ہم نوجوان فضلاء سے کچھ سوالات کیے۔ جن میں دو سوالات بہت اہم تھے، پہلا سوال یہ تھا کہ اقلیت اور اکثریت کا دارومدار کس بات پر ہے؟ اور دوسرا سوال تھا کہ مسلم اور غیر مسلم لیڈر میں کیا فرق ہے؟
چوں کہ ہم نوجوان فضلاء سیاسیات اور سماجیات سے زیادہ آگاہ نہ تھے، اس لیے ہم سے جو بھی روایتی جوابات بن پڑے ہم نے دیے۔ ہمارے جوابات سے مطمئن نہ ہونے کے بعد مولانا موصوف نے اپنے سوالات کی خود سے وضاحت کی ۔ ان کی اس ملاقات نے ابھی تک میرے قلب و ذہن پر بہت گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ پہلے سوال کا جواب انہوں نے بتایا کہ اقلیت و اکثریت کا دارومدار تعلیم پر ہے جو قوم تعلیم یافتہ ہے وہ کبھی بھی اقلیت میں نہیں ہو سکتی۔ دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ غیر مسلم لیڈر منصوبہ بندی اور دانشمندی سے معاملات کو سلجھاتا ہے جب کہ مسلم لیڈر اشتعال اور جذبات کی رو میں بہہ کر قوم کے لیے مزید مسائل پیدا کر دیتا ہے۔ یہ یادگاری گفتگو کرنے والا کوئی اور شخص نہیں بلکہ مولانا وحید الدین خان صاحب تھے۔
عمر اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب سماجی اور سیاسی معاملات کا شعور ہوا تو مولانا کی تشریح و تعبیر کو درست پایا اور قوم کے تئیں مولانا مرحوم کی سنجیدگی اور تڑپ کو انتہائی مخلص پایا۔ مولانا مرحوم جواب اس دارفانی سے کوچ کر گئے اور ہم سب کو داغ مفارقت دے گئے، اپنی ذات میں ایک انجمن
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues