وحید الدین خان کی رحلت
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۶۸
تھے۔ اپنے علمی، تحقیقی اور تصنیفی کمالات کے لیے مولانا کو تاریخ میں وہ نمایاں جگہ ملی ہے جہاں بہت کم لوگ ہی پہنچ پائے ہیں۔
مولانا سے بعض امور میں اختلاف رائے کی گنجائش کے باوجود یہ اعتراف ہم پر لازم ہے کہ بحیثیت مجموعی ان کی کاوشیں ، ان کی رہنمائی ہمارے لیے بہت درست اور بروقت تھی۔ چونکہ ملی سطح پر ہمارا شیرازہ بکھرا ہوا ہے ، اس لیے کسی بھی مخلص قائد کے لیے یہ آسان بات نہیں کہ قوم اس کی قیادت تلے جمع ہونے پر راضی ہو جائے اور اختلافات سے بالاتر ہو کر اجتماعی مفاد کے امور میں یکجہتی دکھا سکے۔ مولانا کی ملی مسائل کے تئیں بہت سی تجاویز تقاضائے وقت ہیں اور ان کو اختیار کرنے میں کسی بھی پس و پیش سے ہمیں کام نہیں لینا چاہیے اور ہر قسم کی اشتعال انگیزی سے بچتے ہوئے دوسرے بنیادی معاملات و حقائق پر توجہ مرکوز کرنا چاہیے۔
مولانا مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ملت اجتماعی سطح پر فروعی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اتحاد واتفاق کی فضا قائم کرے اور تعلیم و تحقیق کے میدان میں دنیا کی دیگر اقوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر عالمی شراکت داری میں اپنا حصہ شامل کرے اور بالخصوص برادران وطن کے ساتھ اسوہ حسنہ اور تعلیمات اسلامی کی روشنی میں بہتر اور خوشگوار تعلقات قائم کرے اور ہر قسم کی غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کو باہمی ڈائیلاگ کے ذریعے دور کرے۔ ایک عالم کی موت ایک عالم کی موت کے مترادف ہے۔ ان کی وفات ایک سانحہ ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا حکم ہے لوگ آتے اور جاتے رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کا بہتر جانشین بنائے ۔ ان کے ان خیالات اور نظریات سے کئی لوگوں کو اختلاف بھی رہا اور لوگوں کو ہوتا بھی ہے۔ ان کی موت کہ ایک بڑا خسارہ اور صدمہ ہے۔ اللہ کرے کہ ان کا خلا بھر جائے ۔ (مولانا مفتی مکرم احمد ، امام مسجد فتح پوری، نئی دہلی)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues