Al-Risala · August 2021 · page 69

وحید الدین خان کی رحلت

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۶۹

پھل دار درخت کے نیچے، بیتے کچھ لمحات ڈاکٹر محی الدین غازی، جماعت اسلامی ہند میرے خوب صورت بچپن کی ایک حسین یاد یہ ہے کہ جامعۃ الفلاح کے چمن میں کالے توت کا ایک گھنا درخت ہوا کرتا تھا۔ میں اس کے نیچے جاتا، وہاں بہت سے توت کھانے کو ملتے۔ کچھ قریبی ٹہنیوں سے اور کچھ زمین پر گرے ہوئے۔

نوجوانی میں قدم رکھا تو پھل دار درختوں جیسی شخصیات سے ملاقات ہونے لگی۔ ان کی مجلس میں بیٹھ کر وہی احساس ہوتا جو بچپن میں کالے توت کے پیڑ کے نیچے توت چنتے ہوئے ہوتا تھا۔ مولانا وحید الدین خان میرے لیے پھلوں سے لدے ہوئے ایک درخت کی مانند تھے۔ میں نے ان کی صحبت میں جتنے لمحات گزارے ان کی شاخ فکر سے شیریں پھلوں کو چنتے ہوئے ہی گزارے۔ مولانا کی خوبی یہ تھی کہ ان کے یہاں خزاں کا موسم کبھی نہیں آتا اور کبھی یہ مایوسی بھی نہیں ہوتی کہ ابھی تو پھل آئے نہیں یا آئے تو ابھی پکے نہیں۔ جب بھی جائیں شیریں پھلوں سے لدی ہوئی شاخیں دل خوش کر دیتیں اور طبیعت کو سیر کر دیتیں۔

مولانا کی باتیں سننے میں بڑی عجیب و غریب لگتیں، لیکن عمل کرو تو بڑی شان دار اور عملی لگتیں۔ ایک بار کہنے لگے کہ بچہ چھوٹا ہوتا ہے تو ماں باپ اپنی تعلیم، ریسرچ اور بہت سے دیگر مفید کام اس وجہ سے ملتوی کر دیتے ہیں کہ بچہ روتا ہے اور انھیں مصروف رکھتا ہے۔ اگر آپ بچے کو گھر میں تنہا چھوڑ جائیں، یا گھر میں رہتے ہوئے اپنے کام کرتے رہیں تو بچہ روتے روتے مر نہیں جائے گا، یا تو تھک کر سو جائے گا یا پھر کھیلنے میں مصروف ہو جائے گا۔ میں نے اپنی ذاتی زندگی میں اس اصول سے بہت فائدہ اٹھایا۔

یہ مولانا کا انوکھا اور منفرد انداز تھا۔ وہ والدین کو مشورہ دیتے کہ بچے کے رونے کو وجہ بنا کر اپنی تعلیم و ترقی کے عظیم منصوبے موقوف نہ ہونے دیں۔ وہ مسلمانوں کو مشورہ دیتے کہ فرقہ پرستوں کی پیدا کی ہوئی شر پسندی میں الجھ کر اپنے نصب العین سے غافل نہ ہو جائیں۔ ان کے نزدیک بچہ رونے

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page