Al-Risala · January 2021 · page 39

Done is Undone

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۳۹

گئی ہے۔ زمین کی جسامت (diameter) اگر موجودہ جسامت کا نصف ہو تو اسکی قوتِ کشش اتنی کم ہو جائے گی کہ انسان اور اس کے مکانات زمین پر ٹھہر نہ سکیں۔ زمین کی جسامت اگر موجودہ جسامت کی دگنی ہو جائے تو اس کی قوتِ کشش اتنا بڑھ جائے گی کہ زمین پر چلنا پھرنا مشکل ہو جائے۔ اسی طرح سورج اور زمین کا فاصلہ اگر موجودہ فاصلہ کا دگنا ہو جائے تو زمین برف کی طرح ٹھنڈی ہو جائے۔ اور اگر سورج اور زمین کا فاصلہ آدھے کے بقدر کم ہو جائے تو زمین سورج کی گرمی سے جھلس اٹھے۔

یہی معاملہ دوسری چیزوں کا ہے۔ زمین پر پانی ہے جو کسی دوسرے کرہ پر موجود نہیں۔ زمین پر آکسیجن ہے جو اس طرح موزوں حالت میں اور کہیں نہیں پائی جاتی، وغیرہ وغیرہ۔ ذی حیات اشیا کے لیے زمین کی اس استثنائی موزونیت کا علم صرف زمانہ جدید میں ہو سکا ہے۔ اس سے پہلے انسان اس بارے میں کچھ نہ جانتا تھا۔ ایسی حالت میں قرآن میں ڈیڑھ ہزار سال پہلے اس آیت کا ہونا ظاہر کرتا ہے کہ یہ خدائی کلام ہے۔

آخری زمانے میں حضرت مسیح کے نزول کے بارے میں جو روایات آئی ہیں ان میں بعض اختلافات پائے جاتے ہیں۔ مثلاً ابو داؤد کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً، ثُمَّ يَتَوَفَّى (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4324)۔ حضرت مسیح دنیا میں 40 سال رہیں گے ۔ پھر ان کی وفات ہوگی۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَيَمْكُثُ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ سَنَةً، ثُمَّ يَمُوتُ (المنتظم في التاريخ، جلد 2 ، صفحہ (39) یعنی اور وہ دنیا میں 45 سال رہیں گے۔ پھر ان کی وفات ہوگی۔

بظاہر دونوں روایتوں میں فرق ہے۔ مگر یہ محض لفظی فرق ہے، نہ کہ حقیقی فرق۔ یہ ایک انداز کلام ہے جو ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔ شارحین حدیث نے اس کی توجیہہ یہ کی ہے کہ 40 سال والی روایت میں اوپر کا عدد حذف کر دیا گیا ہے۔ عربی زبان میں اور دوسری زبانوں میں یہ عام لسانی قاعدہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues

Printed page