وحید الدین خان کی رحلت
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۷۱
مجھے ایک کام دیا اور کام دے کر خود بھول گیا۔ فولڈر کی عبارت تیار ہو گئی ہے۔ آ کر لے جاؤ، اگر آج آنا ہے تو ابھی فوراً آ جاؤ، مجھے ایک پروگرام کے لیے نکلنا ہے۔ میں فوراً آٹو میں بیٹھا اور روانہ ہو گیا۔ وہاں پہنچا تو مولانا گاڑی میں بیٹھ رہے تھے، میں نے کہا کیا مجھے ساتھ چلنے کی اجازت ملے گی۔ انھوں نے کہا: ہاں، اور میں ان کے ساتھ ہولیا، یہ جانے بغیر کہ کہاں جا رہے ہیں۔ ہماری منزل ستتیہ سائیں انٹرنیشنل سینٹر کی عمارت تھی۔ وہاں ملک بھر کے ملٹری اسکولوں کے پرنسپل حضرات کا روحانی تربیت پر ورکشاپ چل رہا تھا۔ مجھے تجسس تھا کہ مولانا اسلام کا تعارف کس طرح پیش کرتے ہیں، مولانا کی وہاں اسلام کے تعارف پر تقریر ہوئی، اور انھوں نے اسی طرح اسلام کو پیش کیا جس طرح غیر مسلموں کی مجلس میں عام طور سے پیش کیا جاتا ہے۔ بس خاص بات یہ تھی کہ تقریر کے دوران مولانا پر رقت طاری تھی اور سب کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔ مولانا نے دعوتی فولڈر کے لیے جو عبارت مجھے دی، وہ نہایت اثر انگیز تھی۔ ہم نے اسے فولڈر کی شکل دی، ہندی اور انگریزی میں ترجمہ کرایا اور پورے ملک میں اس کے ذریعہ شان دار دعوتی مہم انجام دی۔
ایک دن میں نے انھیں بتایا کہ میں جماعت اسلامی کا رکن بن گیا ہوں۔ مسکرانے لگے، کہنے لگے مجھے تمھارے رکن بننے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن ایک نصیحت ضرور کروں گا۔ رکنیت کے تمام تقاضے حسن و خوبی کے ساتھ انجام دینا، لیکن اپنی زندگی کا منصوبہ خود بنانا۔ اس کا انتظار مت کرنا کہ جماعت تمھیں تمھاری زندگی کا منصوبہ بنا کر دے گی ۔ جو لوگ اپنی زندگی کے منصوبے کے لیے جماعت پر انحصار کرتے ہیں وہ پوری زندگی بغیر منصوبے کے گزار دیتے ہیں۔ بعد میں میں نے بہت سے لوگوں کو ایسے منصوبے کا منتظر پایا۔
میں نے مولانا سے خوب بحثیں کی ہیں۔ سب سے پہلے ایس آئی او آف انڈیا کے کل ہند تربیتی کیمپ میں، اس کے بعد ان کے گھر پر، اس کے بعد ای میل سے اور آخر میں ان کے فیس بک پر۔ لیکن عالم بن کر نہیں بلکہ ایک نٹ کھٹ بچے کی طرح، جو اپنی شرارتوں سے غصہ بھی دلاتا اور دل بھی لجاتا۔ میں مولانا کے سامنے بچہ بنا رہتا اور وہ مجھے بڑا دیکھنا چاہتے۔ ایک ملاقات میں انھوں نے والد محترم سے کہا، آپ کا یہ بچہ بڑا آدمی بن سکتا ہے، لیکن یہ اپنے آپ سے نا واقف ہے، اسے چاہیے کہ
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues