Al-Risala · August 2021 · page 73

وحید الدین خان کی رحلت

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۷۳

یوں کہ تم نے اپنی انگریزی اچھی کر لی؟ چلتے ہوئے مولانا کی صاحب زادی ڈاکٹر فریدہ خانم نے کہا مولانا کئی دنوں سے بیمار تھے۔ آج تم لوگوں سے مل کر تر و تازہ ہو گئے۔ میں نے ان کے ساتھ ملاقات کی خبر فیس بک پر ڈالی، بعض احباب نے سوال کیا کہ آپ نے ان کے فکری انحراف کی اصلاح کی کوشش کی؟!!

مجھے ان کی سادگی پر ہنسی آئی۔ انھیں کیا پتہ کہ میں تو شہتوت کے پیڑ کے نیچے شہتوت کھانے گیا تھا۔ مولانا وحید الدین خان اس دنیا کے تزئین کاروں میں سے تھے۔ اللہ تعالیٰ انھیں جنت میں اونچا مقام عطا فرمائے۔

مولانا وحید الدین خان مسلم دنیا اور دین اسلام کی مایہ ناز شخصیت اور ایک ممتاز اسلامی اسکالر تھے جنہوں نے برصغیر ہند و پاک کے دل و دماغ کو اپنی تحریروں سے فتح کیا۔ وہ ایک سلف سٹائل شخصیت تھے، ایک مفکر، اسپیکر، سب سے بڑھ کر ایک کامل معنی میں داعی الی اللہ تھے۔ جو لوگ ان کے کچھ نظریات اور ان کی مسلم پالیسی سے اختلاف کرتے ہیں وہ لوگ بھی ان کی فہم و عقل، ان کی فکری مضبوطی، اور اسلامی علوم پر ان کی دسترس کا اعتراف کرنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں۔ انھوں نے اپنے شاگردوں کی ایک ٹیم تیار کی ہے، جو ان کے مشن کے سفر کو جاری رکھ سکتے ہیں۔ اللہ رب العزت ان کے نیک اعمال کو قبول فرمائے، اور انھیں جنت کی زندگی عطا فرمائے! وہ ان کے شاگردوں کو، رضا کاروں کو مولانا کے کام کو جاری رکھنے کا شدید احساس، ہمت، حوصلہ اور تحریک پیدا فرمائے! آمین (شیخ اے سی آغا محمد، ڈائریکٹر جامعہ نظیمیہ، بیرو والا، سری لنکا) آہ بابا جی! ! سب کے مولانا وحید الدین خان صاحب، جب کہ میرے بابا جی اللہ کے مہمان بن گئے۔۔ رب کی مرضی کے آگے بھلا کس کی مجال۔ ۔ ہیرے نگینے عظیم الشان لوگ دنیا سے اٹھے جا رہے ہیں۔ ابھی خبر غم ملی ہے۔ بابا جی بھی رخصت ہوئے۔ آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں ۔ ۔ بہت بہت دکھ محسوس کر رہا ہوں۔ ۔ بابا جی میرے استاد محترم تھے۔ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔ (مظہر صدیقی، ملتان)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page