وحید الدین خان کی رحلت
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۷۴
خود احتسابی حسن نثار، پاکستان گزشتہ چند سالوں میں بہت سے مہربان قارئین سے یہ شکوہ سن چکا ہوں کہ کبھی کبھی خود احتسابی و خود ملامتی میں کچھ زیادہ ہی آگے نکل جاتا ہوں۔ دلچسپ بات یہ کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اسے بہت پسند کرتے ہیں۔ کیوں کہ برسوں باہر رہتے ہوئے ان کی تربیت کچھ اور انداز میں ہوچکی ہوتی ہے اور وہ خاصے حقیقت پسند واقع ہوتے ہیں جب کہ یہاں’’ہم سا ہو تو سامنے آئے‘‘ والا مائنڈ سیٹ عروج پر ہے۔ اخلاقی انحطاط اپنے عروج پر ہے۔ لیکن ’’خود فریبی‘‘ اس سے بھی کہیں زیادہ عروج پر ہے، اور ہم ’’ملی نغموں‘‘ کے نرغے میں ہیں۔
میں نے کچھ فورمز پر اپنی اس نااہلی اور کمزوری کی وضاحت کرتے ہوئے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ’’اپنا‘‘ وہ ہے جو آپ کو آپ کی خامیوں، کجیوں اور کمزوریوں سے آگاہ کرے ۔ اچھا باپ ہو یا عمدہ اور ذمہ دار استاد، اپنی اولاد یا شاگردوں کی شان میں قصیدے نہیں کہتا بلکہ انہیں ان کی کمزوریوں کی طرف متوجہ کر کے ان پر قابو پانے کے مشورے دیتا ہے تا کہ وہ عملی زندگی کے امتحان میں بہتر طریقے سے پرفارم کرسکیں۔
بہر حال پچھلے دنوں مولانا وحید الدین خان صاحب مرحوم و مغفور کی ایک تحریر زیر نظر سے گزری جس کا موضوع بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ جو دوست مولانا کے بارے میں نہیں جانتے، ان کی معلومات کے لیے پہلے تو یہ عرض ہے کہ میں ان کا زبردست مداح تھا، ہوں اور رہوں گا۔ کیونکہ مولانا اسلام کے ان مفکرین میں سے تھے جو تھرڈ ڈائمینشن دیکھنے کی بصیرت رکھتے اور آرٹ آف تھنکنگ بلکہ ’’اوریجنل تھنکنگ‘‘ کی علامت تھے اور گھسی پٹی بات سے گریز کرتے تھے۔ کوئی ایسے شخص سے اتفاق کرے یا اختلاف، ان کا اصل حسن اور کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ قاری کو خود سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے اور یہی کسی خیال و تحریر کا اصل کمال ہوتا ہے کہ وہ آپ کی سوچ کو ٹریگر کر دے۔ مولانا وحید الدین خان 1925 کو یوپی (انڈیا) کے ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے اور چند ہفتے قبل ہی اس دنیا
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues