Al-Risala · August 2021 · page 75

وحید الدین خان کی رحلت

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۷۵

سے رخصت ہوئے ۔ ان کی تحریروں میں بین المذاہب مکالمہ اور امن کا ذکر زیادہ ہے۔ خود احتسابی کے حوالہ سے ان کی یہ تحریر پیش خدمت ہے۔ لکھتے ہیں :

” ایک مسلم نوجوان سے ملاقات ہوئی وہ کتابت کا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا میں ’ الرسالہ‘ پابندی کے ساتھ پڑھتا ہوں۔ مجھ کو ’ الرسالہ ‘ بہت پسند ہے مگر آپ کی ایک بات مجھے کھٹکتی ہے، آپ اکثر مسلمانوں کی کمیوں کا ذکر کرتے ہیں۔ اس سے تو مسلمانوں میں احساس کمتری پیدا ہو جائے گا۔ میں نے کہا کہ آپ ایک کاتب ہیں۔ فرض کیجیے کہ آپ حرف ”ج“ اور ”ع“ کا دائرہ صحیح نہ بناتے ہوں ۔ اب اگر آپ کے استاد آپ کی اس کمی کو بتائیں تو کیا آپ یہ کہیں گے کہ استاد صاحب میرے اندر احساس کمتری پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ”نہیں “۔ میں نے کہا اسی ذاتی مثال سے آپ ” الرسالہ “ کے ان مضامین کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ایسے مضامین کا مقصد مسلمانوں میں احساس کمتری پیدا کرنا نہیں بلکہ احساس اصلاح پیدا کرنا ہے اور یہ ایک معلوم بات ہے کہ اپنی کمیوں کی اصلاح کے بغیر کوئی شخص یا گروہ اس دنیا میں ترقی نہیں کر سکتا۔ عربی زبان کا ایک مثل ہے کہ جو شخص تم کو نصیحت کرے وہ اس سے بہتر ہے جو تمھاری تعریف کرے۔ یہ مثل سو فیصد درست ہے۔ ہر وہ شخص جو کسی کے ساتھ خیر خواہی رکھتا ہو، وہ یہی کرے گا کہ وہ اس کی کمیوں کی نشاندہی کرے اور اس کی کوتاہیوں پر اس کی فہمائش کرے۔ یہی سچے مصلح کا طریقہ ہے۔

قرآن میں گھاٹے ( خسر ) سے بچنے کے لیے جو لازمی صفات بتائی گئی ہیں ان میں سے ایک ضروری صفت ” تواصی بالحق “ اور ” تواصی بالصبر “ ہے یعنی آپس میں ایک دوسرے کو حق اور صبر کی نصیحت کرتے رہنا۔ وہی گروہ اس دنیا میں نقصان اور بربادی سے بچ سکتا ہے جس کے افراد میں یہ روح زندہ ہو کہ جب وہ اپنے بھائی کو حق کے راستے سے ہٹتا ہوا پائے تو فوراً اس کو ٹوک کے۔ اور وہ جب بھی اس کو بے صبری کی طرف جاتا ہوا دیکھے تو اس کو صبر کی اہمیت سے آگاہ کرے ( سورہ العصر )۔

صحابہ کرام کے اندر نصیحت کرنے کا جذبہ بھی پوری طرح موجود تھا اور نصیحت سننے کا بھی۔ حضرت عمر فاروق نے کسی معاملہ میں کوئی فیصلہ کیا۔ حضرت علی کو اس میں غلطی نظر آئی۔ انہوں نے اس پر

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page