حیدر میواتی ندوی
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۷۷
بڑے ابا مز فہمیدہ خان، فیض آباد انسان دنیا میں بہت کچھ حاصل کرتا ہے، دولت، پیسہ، پراپرٹی اور ہر قسم کی مٹیریل چیزیں۔ میری زندگی کی سب سے بڑی دولت مولانا وحید الدین خاں صاحب، یعنی بڑے ابا ہیں۔ انھوں نے میری زندگی کو اندھیرے سے اجالے کی طرف لوٹایا ہے۔ میری زندگی انسانوں کے لیے وقف ہو کر رہ گئی تھی، مگر وہاں مجھے کچھ نہ ملا۔ میری روح ایک سوکھے پیڑ کی طرح ہو چکی تھی۔ پھر مولانا کی رائیٹنگس اور لکچرس نے میری روح کو سینچا اور اس میں ہریالی آئی۔ میری زندگی کا رخ انسانوں سے ہٹ کر خدا سے جڑ گیا۔ مولانا کے چھوٹے چھوٹے جملوں نے میرے دماغ کی پرتیں ہٹائی ہیں، جس کو میں پہلے نہیں سمجھ پائی تھی، مولانا نے میری ڈی کنڈیشننگ کی ہے۔
جب میں مولانا سے ملی تو میں بہت غمگین رہتی تھی۔ میرے والد کا جلد ہی انتقال ہو گیا تھا۔ میں اکثر روتی رہتی تھی۔ میری یہ حالت دیکھ کر مولانا نے کہا کہ آنسو بہت قیمتی چیز ہے، وہ صرف خدا کے لیے ہے۔ اس دن میری سمجھ میں آیا کہ ہمارا قیمتی آنسو کسی برتر ہستی کے لیے ہی ہو سکتا ہے۔ دنیا کی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے نہیں۔
ایک بار مولانا نے اپنی کلاس میں مجھ سے کہا تھا کہ آپ اسی طرح دنیا سے چلی جائیں گی، خدا کے لیے کچھ نہیں کریں گی۔ اس بات نے مجھے ہلا دیا کہ میں نے زندگی میں لوگوں کے لیے بہت کچھ کیا مگر ریٹرن میں مجھے ذہنی سکون تک نہ ملا۔ اور جو میرا خدا جو مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے، جس نے میری ہر مشکل کو آسان کیا اور مصیبت سے بچایا، اپنے اس مالک کے لیے ہی میں نے کچھ نہیں کیا۔ پھر مولانا کے ذریعے مجھے خدا کے مشن میں کام کرنے کا موقع ملا۔ میری زندگی کا آدھا حصہ بے مقصد گزر گیا، مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے بچا لیا جس کا ذریعہ مولانا صاحب بنے۔ میری زندگی نماز، روزہ، حج کرنے کے بعد بھی خدا کے بغیر تھی۔ مگر مولانا صاحب کی کتابیں پڑھنے کے بعد زندگی میں خدا کا رنگ آنے لگا۔ میرے سوچنے سمجھنے کا طریقہ خدا سے شروع ہو کر خدا پر
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues