Al-Risala · August 2021 · page 78

حیدر میواتی ندوی

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۷۸

ختم ہونے لگا۔ میں ہمیشہ یہی سمجھتی تھی کہ میں کچھ کرنے کے قابل نہیں ہوں۔ مگر مولانا صاحب کے مشن سے یہ موقع ملا کہ میں بھی خدا کے لیے کچھ کر سکتی ہوں۔ اب مجھے زندگی جینے کا مقصد مل گیا ہے۔ جب تک میری زندگی ہے، ان شاء اللہ سی پی ایس مشن میری پرائیرٹی (priority) رہے گا۔ مولانا صاحب اب اس دنیا میں نہیں ہیں، مگر ان کی رائٹنگس، ان کے لکچرس مجھے یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ میرے پاس ہیں، مجھے گائڈ کر رہے ہیں۔ مولانا صاحب نے خدا کے بندوں کو جنت کا راستہ دکھایا ہے جو ایک سچے خدا کے بندے کو کرنا چاہیے۔

مولانا 28-26 جون 2014 میں سی پی ایس ٹیم کے ساتھ میرے گھر آئے تھے۔ اس وقت کو میں اپنی زندگی کا سب سے قیمتی وقت سمجھتی ہوں۔ اس دوران میں نے جنت کا تجربہ کیا کہ جنت میں کیسا ماحول ہوگا۔ ہر وقت خدا کی گلوری کا احساس ہونے لگا۔ مولانا کے ساتھ ایسا قیمتی وقت میری زندگی میں پھر نہیں آئے گا۔ مگر میں دعا کرتی ہوں کہ اللہ آخرت میں مجھے اس کا تجربہ کرا دے۔ اپنی زندگی میں میں نے کتنے ہی اپنوں کی موت کو دیکھا مگر مولانا کے انتقال کی خبر میرے لیے ایسی تھی جو میں کبھی بھول نہیں سکتی۔ اس لمحہ میں نے محسوس کیا تھا کہ میری ہارٹ بیٹ تھوڑی دیر کے لیے رک گئی ہے اور میں نے بہت دیر کے بعد یہ ریلیز کیا کہ مولانا واقعی اب ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔ شاید غم اور تکلیف کا اتنا بڑا تجربہ مجھے پہلی بار ہوا تھا۔

مولانا صاحب کی اہمیت کو دنیا والے سمجھیں یا نہ سمجھیں، مگر مجھے پوری امید ہے کہ خدا نے اپنے فرشتوں کے ساتھ مولانا صاحب کا وارم ویلکم کیا ہوگا۔

مولانا وحید الدین خاں صاحب نے دورِ جدید میں، جب کہ الحاد کو فروغ حاصل ہو رہا ہے، اپنے قلم سے سائنسی دلائل کی روشنی میں اللہ کی معرفت اور اس کے تخلیقی منصوبے سے پوری انسانیت کو آگاہ کیا۔ شرک، شخصیت پرستی، فرقہ واریت جیسی بیماریوں کا پوری طاقت سے رد کیا۔ اس مرد مجاہد نے مخلوق میں جینے کے بجائے خالق میں جینے کا سلیقہ سکھایا۔ ہم نے ان کی تحریروں اور تقریروں کو پڑھ کر مذہب کے تعلق سے اپنے اندر یقین پیدا کیا ہے۔ (مسعود انصاری، ٹینٹا گڑھ، ویسٹ بنگال)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page