Al-Risala · August 2021 · page 79

حیدر میواتی ندوی

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۷۹

خدا اور آخرت کا داعی مولاناسید اقبال احمد عمری، تامل ناڈو مولانا سے میری پہلی ملاقات دہلی میں سن 2007 میں نظام الدین 29-C پر ہوئی، ان دنوں میں اس تلاش میں تھا کہ عربی زبان میں قرآن اور سائنس کے موضوع پر کوئی کتاب مل جائے۔ میں نے مولانا کے شیلف پر نظر ڈالی تو وہاں کئی عربی کتابیں نظر آئیں، میں نے اپنی تلاش کے مطابق دو عربی کتابیں عاریتاً مولانا سے حاصل کرلیں ۔ اس ملاقات میں مولانا نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا کہ کیا آپ ایسا سمجھتے ہیں کہ جنت صرف حور و قصور کی جگہ ہے؟ یہ نعمتیں تو خدا کے یہاں قرآن کے الفاظ میں بطور نزل یعنی مہمان نوازی (hospitality) کے طور پر دی جائیں گی مگر جنت حقیقت میں ایک ایسی جگہ ہے جہاں پر نہ صرف یہ کہ مادی نعمتوں کی تکمیل کا سامان ہوگا بلکہ وہاں روحانی تقاضوں کی تکمیل کا بھی مکمل انتظام ہوگا۔ پھر مولانا نے اپنی بات کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ: ”جیسے کسی شخص نے اپنی ساری زندگی آلاء اللہ کی دریافت اور اس کی تحقیق و جستجو میں گزار دی ہو تو اس کو آلاء اللہ کی دریافت کے لیے جنت میں ایک لامناہی میدان دے دیا جائے گا اس کو ہم ایک مثال سے سمجھ سکتے ہیں۔ فرض کیجیے کہ دنیا میں ایک شخص تھا جو نباتات کا عالم (Botanical Professor) تھا اور وہ اس حال میں وفات پا گیا کہ مزید پھولوں کی کیمسٹری، اس کی تخلیق کا راز اور اس کی خوشبو کی حقیقت کو جاننے کی خواہش رکھتا تھا تو آخرت میں اس کو بھر پور طور پر اس کا موقع دیا جائے گا اور مزید اس کے لیے ہر قسم کے اعلی انتظامات فراہم کیے جائیں گے۔ یہ صرف ایک مثال ہے جس کے ذریعہ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ جنت کیسا اعلیٰ ترین مقام ہوگا کہ وہاں ہر انسان کی خواہش کو اس کے اعلیٰ عقلی سطح پر فل فل کیا جائے گا“۔ جیسے ہی میں نے مولانا کی یہ بات سنی تو میں نے بروقت قرآن کی دو آیتیں بطور استدلال تلاوت کیں ۔ جن کا ترجمہ یوں ہے :

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page