Al-Risala · January 2021 · page 40

Done is Undone

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۴۰

ہے کہ کبھی کسر کا ذکر کرتے ہیں اور کبھی اس کو حذف کر دیتے ہیں۔

اس طرح اور بھی بہت سی مثالیں روایات میں پائی جاتی ہیں۔ بعض لوگ ان کو روایت میں اختلاف سمجھتے ہیں، اور حدیث میں شبہ کرنے لگتے ہیں۔ حالاں کہ یہ صرف اندازِ کلام کی بات ہے، اور اندازِ کلام کا یہ طریقہ ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔

انڈیا کے مشہور انگریزی صحافی مسٹر خشونت سنگھ (پیدائش 1915) نے لکھا ہے کہ میں ہندوستان سے پاکستان گیا۔ جب ہمارا ہوائی جہازلا ہور کی فضا میں پہنچا تو جہاز میں اناؤنسر نے اعلان کیا کہ پاکستان میں شراب ممنوع ہے۔ کوئی مسافر شراب کی بوتل کے ساتھ پاکستان میں داخل نہیں ہوسکتا۔ آپ میں سے جس شخص کے پاس شراب ہو وہ اس کو جہاز کے عملے کے پاس جمع کردے۔ مسٹر خشونت سنگھ نے لکھا ہے کہ میرے پاس شراب کی ایک بوتل تھی۔ یہ بوتل میں نے حسب اعلان ہوائی جہاز کے عملے کے حوالے کر دیا۔ مگر اس کے بعد جب میں لاہور کے اندر داخل ہوا تو مجھے معلوم ہوا کہ بلیک مارکیٹ میں شراب نہایت فراوانی کے ساتھ بک رہی ہے، اور میں بلیک سے جتنی چاہے شراب خرید سکتا ہوں۔ (20 مارچ 2014 کو مسٹر خشونت سنگھ کا انتقال ہو چکا ہے)۔ مولانا غیاث الدین رحمانی سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں جن مسلم ملکوں میں شراب بند کی گئی ہے، وہاں اس کا یہی انجام ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے لوگوں کا ذہن بنایا اس کے بعد شراب کی حرمت کا اعلان کیا (مسند احمد، حدیث نمبر 8620)۔ اسی طرح موجودہ زمانے میں پہلے اس کے موافق ذہنی فضا بنانی پڑے گی۔ محض قانون کے زور پر لوگوں کو شراب نوشی سے روکا نہیں جاسکتا۔

انھوں نے کہا کہ مگر یہ طریقہ ہم کو اسلاف کے یہاں نہیں ملتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک ہزار سال تک قانون ہی کے زور پر شراب کو روکا جاتا رہا۔ ایسا نہیں کیا گیا کہ پہلے ذہنی فضا بنائی جائے اس کے بعد شراب پر پابندی لگائی جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues

Printed page