Al-Risala · August 2021 · page 81

حیدر میواتی ندوی

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۸۱

عین اسی وقت جب میں مولانا کے سامنے اپنے سوالات رکھ رہا تھا مولانا کے ہاتھ میں سورج گرہن اور چاند گرہن کا ایک نقشہ موجود تھا، مولانا نے اس نقشے کو سامنے رکھ کر مجھے سمجھاتے ہوئے کہا کہ یہ مختلف حجم کے اجسام ہیں۔ جب یہ تین ڈفرنٹ سائز کے ماسس ایک ہی سیدھ میں آجاتے ہیں تو سورج گرہن اور چاند گرہن جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ یہ کہتے ہوئے مولانا زار و قطار رو رہے تھے اور با آواز بلند یہ کہہ رہے تھے کہ وہ خدا کتنی عظیم قدرت کا مالک ہوگا جو سورج ، چاند اور زمین کو ایک ہی سیدھ میں لا کر کھڑا کر دیتا ہے۔ اس قسم کا واقعہ کوئی سادہ واقعہ نہیں ہے۔ یہ واقعہ بتا رہا ہے کہ لامحدود اسپیس میں مختلف سائز کے اجسام کا ایک سیدھ میں آ جانا انتہائی حیرت انگیز واقعہ ہے۔ اس قسم کے واقعے کا ظہور دراصل کائنات میں ایک برتر ہستی کی مداخلت کو بتا رہا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ نے اس واقعے کو ”آیۃ من آیات الله “ کہا (صحیح مسلم ، حدیث نمبر 914) ۔ یعنی یہ واقعہ خدا کی عظمت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔

یہ میرا پہلا تجربہ تھا جب میں نے مولانا کو عظمت خداوندی کے احساس سے بہت زیادہ تھرل میں دیکھا اور میرے لیے یہ منظر بڑا ہی تعجب خیز تھا۔ کیونکہ میں ایک طویل عرصہ سے اللہ کے بارے میں درس دے رہا تھا مگر نہ تو کبھی میرے رونگٹے کھڑے ہوئے اور نہ ہی میری آنکھوں سے کبھی اشک جاری ہوئے۔

مولانا کی مجلسوں میں مسلسل شرکت کرنے کے بعد ہی مجھ پر یہ راز کھلا کہ یہ عظیم کائنات اور اس میں رونما ہونے والے واقعات در حقیقت خدا کی عظمت کا عملی اظہار ہیں، مگر ہمارا کیس یہ ہے کہ ہمیں اس کا شعوری ادراک نہیں ہے۔ اس لیے ان غیر معمولی واقعات میں ہمیں خدا کی عظمت کے غیر معمولی پہلو نظر نہیں آتے۔

اگر تخلیقات میں خالق کی عظمت کا ادراک کریں تو کیفیات نصیب ہوتی ہیں، ایمان بڑھتا ہے۔ مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ میں نے اب تک صرف مسائل عقیدہ کو اپنا موضوع بنا رکھا تھا۔ تقریباً بیس سال سے مجھے مولانا کی ڈائریکٹ تربیت اور الیکٹرانک صحبت کا موقع ملا۔ میں نے جتنا زیادہ مولانا کو اللہ کا شعوری ذکر کرنے والا پایا ہے کسی اور کو نہیں پایا۔ آج بظاہر مولانا ہمارے درمیان نہیں رہے مگر مولانا نے ہم کو جس زندہ ہستی سے جوڑا ہے

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page