Al-Risala · August 2021 · page 82

حیدر میواتی ندوی

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۸۲

اور مسلسل طور پر جس سے جڑے رہنے کے لیے تخلیقی معرفت کی طرف ہماری رہنمائی کی ہے، اس کے ذریعے کلمات اللہ کی دریافت کا لامحدود طریقہ مل گیا ہے۔

مولانا کے ساتھ ابتدا میں میرے جو ذاتی تجربے ہوئے ہیں اس سے یہی پتہ چلا کہ مولانا خدا اور آخرت کی طرف بلانے والے داعی ہیں۔ وہ کسی اور چیز کے داعی نہیں۔ اس دور کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت جو ہم کو حاصل ہوئی ہے، وہ یہ بھی ہے کہ ہمارے پاس ایک عارف باللہ کی دریافتیں اس کی تصویر اس کی آواز آڈیو اور ویڈیو کی شکل میں محفوظ ہیں۔ کتابوں کی شکل میں بھی ایک ایسا ذخیرہ محفوظ ہے جو ہماری تربیت کا اہم ذریعہ ہے۔ مولانا نے مشن کو اور اپنی ٹیم کو اس زندہ ہستی کے حوالے کر دیا جو جُّو الحی القیوم" ہے۔ اب مولانا کے بعد ہم معرفت کے سفر کو اس احساس کے ساتھ آگے بڑھائیں کہ ایک دن ہم کو بھی مرنا ہے، خدا کے سامنے پیشی ہونے والی ہے اور دوسری طرف اللہ نے مولانا کے ذریعے جو مشن شروع کیا ہے اسے بغیر اختلاف کے ربانی بنیادوں پر آگے بڑھائیں۔

اللہ مولانا کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم مولانا کی تعلیمات کا فروغ کریں۔ میری خواہش تھی کہ کم از کم ایک بار ان سے ملاقات ہوتی، جو اللہ کو منظور نہ تھی۔ (سلمان الیاس، اسلام آباد)

راز حیات“ کے متلاشی کی تلاش اختتام شد۔ وہ زندگی کا سب سے بڑا راز پا گئے۔ خالق حقیقی کی تلاش بس اب اک نیند کے پرے ہے۔ خالق کا اس کانٹوں بھری بستی سے پھول چنے کا عمل جاری۔ مولانا وحید الدین خان بھی کائنات کی سب سے بڑی حقیقت سے گزر گئے۔ کتاب "Life, Death and Beyond" کے مصنف زندگی دیکھ رہے تھے، موت دیکھ لی، اب یقیناً وہ دیکھ رہے ہوں گے جس کا پر چار کرتے عمر بتا دی۔ (جواد احمد، کراچی)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page