Political activism or futile activism
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۸۳
جب میں نے مولانا سے پہلی بار ملاقات کی اظہر مبارک، برہرواد، جھارکھنڈ میں سن 2004 سے ماہنامہ الرسالہ کا قاری ہوں۔ 2007 سے ماہنامہ کے علاوہ مولانا کی کتابوں کو پڑھنا شروع کیا۔ اس کے بعد میں نے مولانا کی آن لائن کلاسیز اٹینڈ کرنا شروع کیا۔ پھر میرے اندر شدید خواہش ہوئی کہ مولانا سے براہ راست ملوں۔ آخر وہ دن بھی آیا، جب کہ میں نے مولانا سے ملاقات کی۔
میری زندگی کا وہ دن بڑا ہی عجیب ہے جب مولانا کو میں نے پہلی بار دیکھا تھا۔ میں مولانا سے ملاقات کے لیے دہلی پہنچا اور نظام الدین میں پانچ دنوں کا قیام کیا۔ 15 جون 2012 سے 19 جون 2012 تک۔ 17 جون 2012 کو مولانا کا سنڈے لکچر تھا۔ لکچر سے پہلے میں مولانا سے پہلی براہ راست تعارفی ملاقات ہوئی۔ کیوں کہ اس سے پہلے میں نے مولانا سے ٹیلی فون پر کئی بار بات کی تھی۔ میں نے مولانا سے مختصر بات کی، جس میں مولانا نے میری ملاقات پٹنہ کے ابوالحکم دانیال صاحب سے کرائی۔ آج مولانا کا ٹاپک تھا:
Political activism or futile activism
پہلی بار اس طرح ڈائریکٹ طور پر مولانا کا لکچر سننا، زندگی کے ایک یادگار لمحے کی طرح مجھے یاد رہے گا۔ 18 جون کو نظام الدین میں میرے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا۔ میں نے نظام الدین کی مسجد کلاں میں رات کو قیام کیا تھا۔ سوتے اتفاق کہ وہاں میرا موبائل چوری ہو گیا۔ سفر کے دوران یہ تجربہ میرے لیے سادہ معاملہ نہ تھا۔ میں مولانا کے پاس ان کے ساتھی مولانا ذکوان ندوی صاحب کے توسط سے پہونچا تھا۔ کسی وجہ سے مولانا نے 19 جون 2012 کو مجھے تلاش کی تو مولانا ذکوان ندوی کے ذریعے مولانا کو پتہ چلا کہ میرا موبائل چوری ہو گیا ہے۔ اس پر مولانا نے گڈورڈ شاپ پر میرے بارے میں یہ خبر بھجوائی کہ اگر وہ وہاں پر پہنچیں تو انہیں کہہ دیجیے گا کہ وہ آ کر مجھ سے ملاقات کریں۔ حسب حال میں جب میں 11 بجے دن کو گڈ ورڈ شاپ گیا تو خبر ملی کہ مولانا نے مجھے اپنی آفس میں
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues