Al-Risala · August 2021 · page 85

Political activism or futile activism

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۸۵

کے افکار کا سب سے بڑا فائدہ مجھے یہ ہوا کہ میں قرآن سے بالکل جڑ گیا۔ مجھ پر قرآن کے معانی کھلتے گئے اور مجھے روحانی تسکین (spiritual solace) ملتا گیا۔

اس سلسلے میں میرا ایک احساس یہ ہے کہ یہ صرف اور صرف مولانا ہی ہیں، جن کے الفاظ آج کے ماڈرن انسان کے لیے قابلِ قبول ہیں، ورنہ آج، پوسٹ سائنٹفک ایج میں سارے کے سارے مسلم علماء کی تحریریں غیر متعلق ہو گئی ہیں۔ خود میں بھی مولانا سے پہلے اسلام کو صحیح طور پر سمجھ نہیں پاتا تھا۔ میں نے مختلف علما کی کتابیں پڑھیں ہیں، مگر وہ میری پیاس بجھانے کے لیے ناکافی تھے۔ سائنٹفک ایج نے پورے معاملات کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب ٹریڈیشنل خطاب کا کوئی معنی باقی نہیں رہ گیا تھا۔ اب ضرورت تھی کہ اسلام کو از سر نو ماڈرن سائنٹفک اسلوب سے لکھا جائے اور یہ کام صرف اور صرف مولانا نے انجام دیا ہے۔ اس سلسلے میں مولانا کا کام اتنا بڑا ہے کہ الفاظ کم پڑ جائیں گے اعتراف کے لیے! اللہ ہمیں اس مشن میں اپنا حصہ بھر پور طور پر ادا کرنے کی توفیق ادا فرمائے۔ آمین A Leading Scholar and Thinker مولانا وحید الدین خاں صاحب (2021-2025) کے ساتھ ہی بیسویں صدی کے اکابر علما کی آخری کڑی بھی شاید اختتام کو پہنچی۔ ان کی تحریروں کی سب سے بنیادی خوبی سائنٹفک طرز فکر پر مبنی ان کے مدلل مباحث تھے۔ انھوں نے بے شمار لوگوں کو متاثر کیا۔ ہم نے بچپن سے جن کو پڑھا اور متاثر ہوئے، ان میں مرحوم بھی تھے۔ ہمارے گھر متعدد رسالے اور اخبارات آتے تھے، لیکن سب سے متاثر کن ’’الرسالہ‘‘ میں مرحوم کا مختصر کالم نما فکر انگیز تحریریں تھیں۔ دہلی آنے کے بعد لال قلعہ دیکھنے کے ساتھ ساتھ ان سے ملنے کی بھی خواہش تھی ۔ اجتہاد ہمیشہ اختلاف کو بھی مدعو کرتا ہے، سوان کے ساتھ بھی رہا۔ البتہ ان کی علمی شان و شکوہ سے کسی کو انکار نہیں۔ بالخصوص ان کی کتاب ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ کا دنیا بھر کی مختلف زبانوں میں تراجم ہوئے ۔ دین و مذہب اور عہد جدید کے چیلنجز اور جدید سائنس ان کے محبوب موضوعات تھے اور ان کی تفہیم و تعبیر کا منہج انھیں پر مبنی تھا۔ (پروفیسر اخلاق آہن، جے این یو، دہلی)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page