Political activism or futile activism
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۸۶
نا قابل تلافی نقصان !
جعفر صادق باقوی، چینی مدیر، ماہنامہ سمانیلی سمودایم، تامل ناڈو، انڈیا مشہور اسلامی عالم اور مفکر مولانا وحید الدین خاں صاحب 96 سال کی عمر میں انتقال فرما گئے ۔ آزادی سے پہلے کے انڈیا میں پیدا ہوئے، آزاد انڈیا میں پلے بڑھے، مولانا انڈیا کے قدیم مسلم علما کے سلسلے کی آخری کڑی تھے۔ مختلف اسلامی تنظیموں کے رہنماؤں کے معاصر رہے۔ اور علمی شخصیات کے ساتھ ان کے تعلقات بھی رہے اور ان سے خوب اختلاف بھی کیا۔ گہرا علم، عمیق سوچ، کم گفتگو، سادہ زندگی مولانا کی پہچان تھی۔ مولانا، اس صدی کے عظیم اسکالر تھے اور جنہوں نے اپنے نام’’وحید‘‘ کے مطابق تن تنہا ایک منفرد مشن کو قائم کیا۔ تن تنہا کھڑے ہوکر اپنے تحریروں اور تقریروں سے دین کی خدمت کی۔ اسلام کے اجتہادی و فکری میدان پر دیر پا اثر چھوڑا اور آخرت کے سفر پر روانہ ہوگئے ۔ مولانا کے انتقال سے تین دن قبل ہی اپنی مسجد کی لائبریری میں اچانک میری نظر کتاب ’’تاریخ کا سبق‘‘ کے ملیالم ترجمے پر پڑی۔ میں نے وہ کتاب اپنے ہاتھ میں لی اور اس کی ورق گردانی کرنے لگا۔ اس وقت میرے ذہن میں ماضی کے واقعات گھومنے لگے ۔ باقیات الصالحات، ویلور کے میرے اساتذہ کرام مفتی شبیر علی حضرت، مفتی صدقہ اللہ حضرت کو ماہنامہ الرسالہ میں ہی دکان سے خرید کر پہنچایا کرتا تھا۔ ہمارے اساتذہ سفر یا حضر میں اپنے خطاب کے لیے اس سے استفادہ کیا کرتے تھے۔ میں چوں کہ اردو زبان سے زیادہ واقف نہیں تھا، اس لیے میرے اساتذہ الرسالہ کے مضامین پڑھ کر ان کا خلاصہ بتایا کرتے تھے۔ ابھی میں انہیں ماضی کی یادو کے جھروکوں ہی میں تھا کہ اچانک مولانا کے وفات کی خبر مجھ پر اچانک بجلی کی طرح آپڑی ۔ میں نے مولانا کا انٹرویو اپنے ماہنامہ سمانیلی سمودایم (Samanilai Samudhayam) میں شائع کیا اور اسی طرح مولانا کے جو مضامین ٹائمز آف انڈیا کے اسپیکنگ ٹری میں شائع ہوتے تھے ان کا یوسف راجہ اور کلوندیم احمد سے ترجمہ کروا کے اپنے میگزین میں شائع کرتا تھا۔ اس پر قارئین کی جانب بہت اچھے تاثرات موصول ہوتے تھے۔ بے شک مولانا کی وفات ایک عظیم خسارہ ہے جس کی تلافی ناممكن ہے۔ اللہ تعالیٰ مولانا کی خدمت کو شرف قبولیت بخشے، اور ان کو علیٰ علیین میں جگہ عطاء فرماۓ، آمین۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues