Al-Risala · August 2021 · page 87

Political activism or futile activism

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۸۷

میرے محسن، میرے معلم عمران احمد اصلاحی مولاناسے میری پہلی ملاقات فروری 1999 میں ہوئی۔ اس کے بعد میں مستقل طور پرمولانا اور ان کے مشن کے ساتھ وابستہ ہوگیا۔ اللہ نے مجھے الرسالہ اور مولانا کی کتابوں کی کمپوزنگ کے ذریعہ الرسالہ مشن کی خدمت کا موقع دیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ آج جب مولانا ہمارے درمیان نہیں ہیں، مزید ذمہ داریوں کے ساتھ میں سی پی ایس مشن سے وابستہ ہوں۔ اس طرح یہ وابستگی 22 سال سے مستقل جاری ہے۔ ابتدائی کچھ سالوں میں مولانا مجھے املا کراتے اور پھر میں اس کو ٹائپ کرنے کے بعد مولانا کو سناتا، مولانا کچھ حذف اضافہ اور تصحیح کے بعد کہتے کہ کمپیوٹر پر اس کو ٹھیک کرکے لائیے۔ یہ سلسلہ تقریباً دو ڈھائی سال چلا۔ اس کے بعد ڈی ٹی پی کی ذمہ داریاں بڑھنے کے بعد املا کے لیے ایک اور صاحب مستقل طور پر مولانا کے رفیق کار بنے۔ لیکن میں بھی وقتاً فوقتاً مولانا کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا۔

اس طرح مولانا سے سیکھنے اور مشن کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔ مولانا میرے مشفق، مربی اور معلم تھے۔ میں نے جتنا مدرسہ سے سیکھا۔ اس سے کہیں زیادہ مولانا کی صحبت اور الرسالہ مشن سے وابستہ ہونے کے بعد سیکھا۔ میرے الرسالہ سے وابستگی کو ابھی چند روز ہی ہوئے تھے، مولانا املا کرا رہے تھے۔ اسی دوران مولانا نے کہا کہ آپ کی اردو بہت کمزور ہے۔ مجھے جیسے شاک لگا ہو۔ اس لیے کہ مدرسہ سے پڑھنے کے بعد یہ ذہن بنتا ہے کہ مدرسہ والوں کی اردو بہت اچھی ہوتی ہے۔ بہر حال اس کے بعد میں نے اردو سیکھنے پر خاص توجہ دینی شروع کی، مولانا بھی اصلاح کرتے رہتے تھے، جس سے میری اردو کافی بہتر ہوئی۔

مولانا کی محبت ہی تھی کہ فیملی، گھر کے بارے دریافت کرتے رہتے۔ ضروری مشورے دیتے ۔ مولانا کے مشورے نہایت پریکٹیکل اور دور رس نتائج کے حامل ہوتے۔ فروری 2001 میں میری شادی کے موقع پر مولانا نے کامیاب ازدواجی زندگی کے دواہم فارمولے بتائے جن پر عمل کر کے

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page