Political activism or futile activism
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۸۸
الحمد للہ ہم خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ دو فارمولے ہیں— ایک، یہ کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھیں۔ دوسرا، شادی نام ہے ایڈجسٹمنٹ کا۔
مولانا کی صحبت میں رہ کر ہم نے ان اہم اسلامی تعلیمات کو عملاً سیکھا جو ہمارے علماء میں آج تقریباً مفقود ہیں ۔ جیسے سادگی، صبر، شکر، اعراض اور تفکر و تدبر۔
مولانا کی پوری زندگی سادگی کا نمونہ تھی۔ مولانا سادہ، بغیر استری کیا ہوا کپڑا پہنتے ۔ مولانا آخر عمر سے کچھ پہلے تک فرش پر ہی سوتے تھے۔ سخت سے سخت گرمی میں بھی اپنے لیے پنکھا چلانا تک پسند نہیں کرتے تھے۔ اکثر لوگ مولانا پر تنقید کرتے ہوئے کہتے تھے کہ مولانا کوٹھی میں رہ کر اور AC میں سو کر قوم کے مسائل کو کیا سمجھیں گے۔ ان کو یہ بھی خبر نہ تھی کہ مولانا پنکھے تک میں سونا پسند نہیں کرتے تھے۔ میں جب بھی گرمی میں مولانا کے پاس جاتا تو کہتے کہ دیکھئے آپ کو ضرورت ہو تو آپ پنکھا چلا سکتے ہیں، مجھے پنکھے کی ضرورت نہیں۔ مولانا کھانا بھی بہت سادہ کھانا پسند کرتے تھے۔ مرغْن غذا مولانا کو پسند نہیں تھی۔
میوات کے ایک سفر میں مولانا کے ساتھ کھانے کے متعلق ایک واقعہ گزرا جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی کھانوں کے پسند سے متعلق احادیث کی نہایت جامع تشریح ہوتی ہے۔ اس کے بعد تمام اشکالات رفع ہو جاتے ہیں۔
اس کی مزید تشریح مولانا کی تحریر ڈائری 1985 (زیر طبع) میں موجود اس تحریر سے ہوتی ہے: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار حضرت ام ہانی کے گھر گئے۔ پوچھا کہ کچھ کھانے کے لیے ہے ۔ انھوں نے کہا کہ سوکھی روٹی کا ایک ٹکڑا اور سرکہ ہے (کِسَرْ يَابِسَةٌ وَخَلّ)۔ آپ نے فرمایا: جس گھر میں سرکہ ہو اس کو سالن کے معاملے میں غریب نہیں کہا جا سکتا (فَمَا أَقْفَرَ بَيْتُ مَنْ اُدْمِ فِيهِ خَلّ) سنن الترمذي ، حدیث نمبر 1841 ۔ اس کے بعد آپ نے سرکہ اور روٹی نہایت شوق کے ساتھ کھایا۔ اسی طرح مختلف روایتوں میں مختلف کھانوں کے بارے میں آپ کی پسندیدگی کا ذکر ہے— مثلاً سرکہ، شہد، روغن زیتون، حلوہ، کدو، گوشت، لکڑی، لوکی، کھچڑی، دودھ، مکھن، کھجور، وغیرہ۔ اس سلسلے میں اہم سوال یہ ہے کہ آپ کے پسندیدہ کھانوں کی فہرست میں وہ تمام چیزیں شامل
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues