Al-Risala · January 2021 · page 41

Done is Undone

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۴۱

میں نے کہا پچھلے زمانے پر موجودہ زمانہ کو قیاس کرنا صحیح نہیں۔ اس لیے کہ پچھلا زمانہ وہ ہے، جب کہ اسلامی روایات کا تسلسل برابر جاری تھا۔ مگر موجودہ زمانے میں اسلامی روایات کا تسلسل یکسر ٹوٹ گیا ہے۔ اب دوبارہ وہی ضرورت پیش آ گئی ہے، جو رسول اللہ کے زمانے میں تھی۔ اب ہمیں دوبارہ اسلامی روایات قائم کرنی پڑیں گی ، اس کے بعد ہی قانون کا نفاذ مفید ہوسکتا ہے ۔ کیوں کہ قانون ہمیشہ روایات کے اوپر نافذ ہوتا ہے، اور موجودہ زمانے میں شراب بندی کے قانون کے لیے روایات کا زور موجود نہیں ہے۔

رشوت بالاتفاق حرام ہے۔ قتادہ (وفات 118ھ) نے کہا کہ صحابی رسول ابی بن کعب (وفات 30ھ) نے فرمایا کہ رشوت عقل مند کو بیوقوف بناتی ہے، اور حکیم کی آنکھ کو اندھا کر دیتی ہے (قَالَ قَتَادَةُ: قَالَ كَعْبٌ: الرِّشْوَةُ تُسَفِّهُ الْحَلِيمَ، وَتُعْمِي عَيْنَ الْحَكِيمِ) المغنی لابن قدامہ، جلد 10، صفحہ 69۔

رشوت ایک ایسا مال ہے، جو آدمی حق کے بغیر لیتا ہے، اور جب آدمی واقعی حق کے بغیر کوئی چیز لے تو عین اسی وقت وہ اپنے آپ کو نیچے گرا لیتا ہے۔ وہ اعلی اخلاق کی سطح پر رہ کر کام نہیں کر سکتا۔ اونچا کام کرنے والے کے اندر اونچا ذہن پرورش پاتا ہے، اور پست کام کرنے والے کے اندر پست ذہن پیدا ہوتا ہے۔ رشوت بہ ظاہر ایک مالی معاملہ ہے، مگر آدمی جب اس میں پڑ جاتا ہے تو اس کی عقل وبصیرت بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتی ہے۔ اخلاقی گراوٹ کا فعل کرتے ہی وہ اپنے آپ کو ذہنی اور فکری حیثیت سے بھی گرا لیتا ہے۔

آدمی اپنے کپڑے صاف رکھنے کے لیے اس کو گندگی سے بچاتا ہے۔ اسی طرح جو شخص اپنی عقل وبصیرت کو صاف ستھرا رکھنا چاہتا ہے، اس کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو برے اخلاق سے بچائے۔ برے اخلاق میں ملوث ہونے کے بعد وہ اپنی عقل کو صحیح حالت میں باقی نہیں رکھ سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues

Printed page