Political activism or futile activism
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۹۰
معاملے میں ان کو خود فیصلہ لینے کا اختیار دیجیے۔ باشعور ہوں گے تو وہ خود بہتر فیصلے لے سکتے ہیں۔ مولانا نے تقریباً ہر ٹاپک پر قلم اٹھایا ہے اور اس کا حق ادا کیا ہے۔ مولانا کی تحریروں سے جو ذہن بنتا ہے وہ ایک بیدار اور حکمت سے پر ذہن بنتا ہے۔ آج اگر ہم یہ عہد کریں کہ مولانا کی کتابیں خود بھی پڑھیں گے اور کم سے کم 10 افراد تک مولانا کا لٹریچر پہنچائیں گے تو ان شاء اللہ جلد ہی ہم وہ وقت دیکھیں گے کہ دنیا میں ہر طرف امن، بھائی چارہ، برداشت اور اعتراف کا ماحول ہوگا۔ میرے معلم و مربی عبد الصمد ابن خلیل احمد، سی پی ایس، پونا بے شک علماء انبیاء علیہم السلام کے وارث ہوتے ہیں۔ حضرت مولانا وحید الدین خاں صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے جو علم نبوت سے وراثتِ علم پائی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ میں حضرت مولانا وحید الدین خاں صاحب سے مسلسل پچاس سال سے منسلک و مربوط رہا ہوں، اور دن بدن حضرت کی محبت بڑھتی رہی۔ مولانا مرحوم وموصوف میرے لیے ایک رہبر کامل، مربی و معلم شفیق رہے۔ ہم نے حضرت مولانا سے جو علمی و روحانی فیض حاصل کیا ہے وہ اتنا عظیم ہے کہ میرے پاس اس کو بیان کرنے کے لئے نہ الفاظ ہیں اور نہ صلاحیت علمی قدرت۔
مختصر عرض ہے کہ حضرت مولانا سے جو علم وجذبۂ میں نے سیکھا اس سے میرے دین ودنیا سنور گئے۔ ہم نے مولانا سے صبر واستقامت سیکھی، عفو درگزر کرنا سیکھا، بحث وماحثوں سے پر ہیز وگریز کرنا سیکھا، زمانہ سے آگاہ و باخبر رہنا سیکھا، غیر مسلموں کو مدد کو سمجھنا سیکھا، ورنہ تو غیر مسلموں کو ہم بھی دشمن تصور کرتے تھے۔ نیز محنت ومشقت کرنا، جد و جہد کرنا، مواقع کو استعمال کرنا سیکھا، گلے شکوے چھوڑ دیے، لینے والا بننے کے بجائے دینے والا بننا سیکھا، علم کو بڑھانا، پڑھنے لکھنے کو مشغلہ بنانا سیکھا۔ تھوڑا ہی صحیح، لیکن سب کچھ اہم وضروری علم ہم نے مولانا مرحوم ومغفور سے سیکھا، جو علم وجذبہ شاید ہم کسی اور سے نہ سیکھ پائے۔ یہ سب کچھ ہم نے حضرت مولانا سے سیکھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues