Al-Risala · August 2021 · page 91

Political activism or futile activism

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۹۱

مولانا وحید الدین خاں محمد حسن تہمامی، دار التذکیر، لاہور مولانا وحید الدین خاں سے میرا تعارف 1983 میں الرسالہ کے ذریعے ہوا۔ یہ رسالہ یوسف خاں مرحوم (جوا دارہ معارف اسلامی منصورہ میں لائبریرین تھے) نے استاد گرامی جاوید احمد غامدی کو پیش کیا تھا۔ پھر 1984 میں مولانا محترم ڈاکٹر اسرار احمد کی دعوت پر محاضرات قرآنی میں شرکت کے لیے لاہور تشریف لائے تو ان کو سننے کا موقع بھی ملا۔ پھر آہستہ آہستہ مولانا محترم کی کتب پڑھنے کا موقع ملا تو مولانا مودودی کا فکری غلبہ دھندلانے لگا۔ 1988 میں ماہنامہ تذکیر کا ڈیکلریشن حاصل ہوا تو الرسالہ کا پاکستانی ایڈیشن شائع کیا۔ 1991 میں جناب نعیم بلوچ اور دیگر دوستوں کے ساتھ مل کر مولانا محترم کو پاکستان آنے کی دعوت دی۔ مولانا ایک ہفتے کے لیے تشریف لائے۔ ان کی رہایش کا بندوبست گارڈن ٹاؤن، لاہور میں جناب کرامت شیخ کے ہاں کیا گیا۔ یہاں فجر کی نماز کے بعد مولانا محترم سے استاد گرامی جاوید احمد غامدی کی معیت میں خصوصی نشستیں ہوئیں۔ ان مجلسوں میں استاد نے مولانا کے تصورِ دین پر چند سوالات اٹھائے۔ ان مجالس کے دیگر شرکا میں ڈاکٹر منیر احمد، طالب محسن، رفیع مفتی اور نعیم بلوچ شامل ہیں۔

میں وہ لمحہ کبھی نہیں بھول سکتا جب مغرب کی نماز کے بعد مسجد سے نکلتے وقت مولانا نے غامدی صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ میری فکر پر پہلی مرتبہ آپ نے سنجیدہ علمی تنقید کی ہے۔ آپ کے نقد کی روشنی میں اپنی فکر کا اب مجھے از سر نو مطالعہ کر کے جائزہ لینا پڑے گا۔ مگر افسوس کہ اب میں بوڑھا ہو چکا ہوں۔ ان الفاظ میں جو درد مندی تھی، وہ دین کے صرف ایک سچے طالب علم کے اندر ہی ہو سکتی ہے۔ 1992 میں، میں نے ”دار التذکیر“ کے نام سے مولانا محترم کی کتب شائع کرنا شروع کر دیں۔ مولانا دنیا کے اُن مصنفین میں سے ہیں جن کی کتب بے پناہ مقبول تھیں، لیکن انھوں نے دعوتی مقاصد کے لیے اس کی اشاعت کی عام اجازت دے رکھی تھی۔ ہر شخص انہیں شائع کر سکتا ہے۔ وہ ان کی کوئی رائلٹی نہیں لیتے تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page