Al-Risala · August 2021 · page 92

Political activism or futile activism

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۹۲

انڈیا میں مولانا کی نئی کتاب کی اشاعت اور الرسالہ کے تاخیر سے وصول ہونے کے حوالے سے کبھی کبھار مولانا سے فون پر رابطہ ہو جاتا۔ 1997 میں شتم رسول کا مسئلہ شائع کی تو ایک مخصوص مذہبی گروہ نے کتاب پر پابندی لگوادی۔

2006 میں کتاب میلے میں شرکت کے لیے دہلی جانا ہوا تو دس دنوں میں سات دن مولانا کے ساتھ گزارنے کا موقع ملا۔ میں صبح ناشتے کے بعد ہوٹل سے مولانا کے ہاں پہنچ جاتا اور رات عشاء کے بعد واپس لوٹتا۔ اُس وقت برادر محمد ذکوان ندوی مولانا کے معاون کے طور پر خدمات سر انجام دیتے تھے ۔ مولانا کی سادگی، شفقت، محبت، اخلاص، اپنائیت اور تعلق باللہ کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ دوسری مرتبہ 2008 میں اپنی اہلیہ کے ساتھ دہلی جانا ہوا تو دوبارہ مولانا کے ساتھ کچھ دن گزارنے کا موقع ملا۔ اُن دنوں کے چند تاثرات اور یادداشتیں ان شاء اللہ آئندہ کبھی لکھوں گا۔ (7 مئی 2021ء) مولانا وحید الدین خاں بھی رخصت ہو گئے۔ اس سے بڑا سانحہ اس دور کا نہیں ہو سکتا۔ اسلام میں نیشنل تھنکنگ کی سب سے توانا آواز آج خاموش ہو گئی۔ ابتدائی مذہبی ادوار میں میرے اوپر جس شخصیت کا سب سے زیادہ اثر رہا، وہ مولانا ہی تھے۔ خاں صاحب نے عصری اسلوب میں 200 سے زائد اسلامی کتب تصنیف کی ہیں۔ جن میں سے راز حیات، کتاب زندگی، اظہار دین، الاسلام بتحدی، ترجمہ قرآن ہر مشکل وقت کا سہارا رہی۔ (احمد ہاشمی) مولانا وحید الدین خان صاحب وفات پا گئے۔ علم کا چلتا پھرتا جیتا جاگتا اک جہان تھے۔ متشدد سوچ محدود اپروچ کے حامل لوگوں سے سے بچنے کے لیے ہم بہت سے اجتہادی فکر رکھنے والے انمول لوگوں سے مل نہیں پاتے ہیں، ان کی باتیں ہم نہیں کر پاتے، ان کے علم کے بہتے چشموں سے ہم اپنے حلقہ احباب کو سیراب نہیں کر پاتے ہیں، یہ سوچتے ہوئے کہ چھوڑیں اندھوں کی نگری میں کیا شیشہ بیچنا۔ کس عذاب اور وحشت میں ہم جی رہے ہیں۔ خیر ان شاء اللہ کوشش ہوگی اس مہینے میں ان کا فیض عام کیا جائے۔ (اے ایچ کھوکھر)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page