Political activism or futile activism
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۹۳
مولانا وحید الدین خان کی بات مجیب الرحمن شامی، پاکستان مولانا وحید الدین خان ایک صدی کے لگ بھگ اس دنیا میں گزار کر بالاخر اپنے رب کے پاس چلے گئے کہ جس کی رضا کا حصول ان کی زندگی کا مقصد تھا۔ ان کا نام پہلی بار اُس وقت سنا جب کالج میں سیکنڈ یا تھرڈ ایئر کا طالب علم تھا۔ اس وقت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اور جماعت اسلامی تو جہ کا مرکز تھے۔ ان کی کئی کتابیں نظر سے گزر چکی تھیں۔ میں نے میٹرک کا امتحان گورنمنٹ ہائی سکول پاک پتن سے پاس کیا تو ایف اے میں داخلے کے لیے بور یوالہ جانا پڑا۔ وحید الدین خان کا نام انہی دنوں سامنے آیا، جب کہ مولانا مودودی کی فکر پر ان کی تنقیدی کتاب’’تعبیر کی غلطی‘‘ شائع ہوئی۔ پھر اس کے بعد یہ کتاب نظر سے گزری، اور مولانا وحید الدین خان کی شخصیت نظروں میں سما کر رہ گئی۔ محترم غلام احمد پرویز سے لے کر مولانا غلام غوث ہزاروی، اور مولانا محمد عمر اچھروی تک مولانا مودودی کے خلاف جارحانہ تنقید میں پیش پیش تھے۔ ان کے خلاف آئے روز مضامین اور کتابیں شائع ہوتیں، اکثر تحریروں سے ذاتی مخاصمت کی بو آتی۔ اس ماحول میں وحید الدین خان کے سنجیدہ لہجے میں کی گئی علمی تنقید نے سب کو چونکا دیا۔ خان صاحب کم و بیش پندرہ سال جماعت اسلامی ہند میں شامل رہے تھے۔ اس کی مجلس شوریٰ کے رکن تھے۔ مولانا کی فکر سے اختلاف کرتے کرتے ان کا راستہ الگ ہو گیا، انہوں نے جو کچھ سوچا، اور جو کچھ لکھا، اُس سے جماعت اسلامی ہند کے زعماء اور مولانا مودودی کی خدمت میں بھیجا۔ تحریری تبادلہ خیال کی بہت کوشش کی، لیکن مولانا نے کسی’’مناظرے‘‘ میں الجھنے سے انکار کیا، اور انہیں اجازت دے دی کہ وہ اپنے افکار کو جامہ اشاعت پہنا دیں۔ مولانا وحید الدین خان نے بقول خود بڑے بوجھل دل کے ساتھ اپنی تحریر کتابی شکل میں پیش کردی۔
ان کے سنجیدہ اور مؤدبانہ لہجے نے ان کی شخصیت کا جو تاثر قائم کیا، آخر دم تک اس میں کمی نہیں آئی۔ مولانا وحید الدین اقامت دین کے فریضے اور حکومتِ الہیہ کے قیام کے ذریعے رضائے الہی کے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues