Political activism or futile activism
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۹۴
حصول کو ”سیاسی اسلام“ قرار دیتے اور اس سے شدید اختلاف کرتے رہے۔ تفصیل میں جانے کا یہ کام تحمل نہیں ہوسکتا، مولانا وحید الدین نے اپنی بات کو شائستگی اور عمدگی کے ساتھ پیش کیا اور پھر اپنے کام میں لگ گئے۔ وہ اسلام کو دعوت کا دین قرار دیتے اور دعوت ہی کے ذریعے تبدیلی لانے کے آرزومند رہے، اسی نکتے کی تشریح و تعبیر میں زندگی گزار دی۔ ان کے ہاں مبارزت نہیں، اخوت ہے۔ وہ اپنے مخالفین سے کشتی نہیں لڑتے، انہیں حریف قرار نہیں دیتے، ان کی طرف ہاتھ بڑھاتے اور اپنے نقطہ نظر کے حق میں دلائل فراہم کرتے ہیں۔ ہندوستان میں انہیں غیر مسلم حلقوں میں بہت پذیرائی ملی، حکومت نے انہیں کئی اعزازات کا مستحق گردانا۔ بین الاقوامی ایوارڈ بھی پیش کئے گئے۔ ان کے ”الرسالہ“ نے دھوم مچائے رکھی وہ ہندی اور انگریزی میں بھی اسلام کی دعوت کو پھیلانے کا ذریعہ بنارہا۔ مسلمانوں کی اجتماعی نفسیات ان کے اسلوب کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہی۔ اسے مرعوبیت بھی قرار دیا گیا، لیکن مولانا نے اپنا راستہ نہیں بدلا، ثابت قدمی سے ان کا سفر آخری عمر تک جاری رہا۔ تین عشرے پہلے وہ پاکستان آئے تو لاہور میں ایک ہفتہ قیام کیا تھا۔ ان کے اعزاز میں کئی تقریبات منعقد ہوئیں، ان سے بات چیت کے کئی دور ہوئے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین وہ اچھے تعلقات پر بہت زور دیتے تھے۔ ان کی بہت سی باتوں سے سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا تھا، لیکن اس بات کا وزن دونوں ممالک میں کم نہیں کیا جاسکتا کہ امن کا قیام دونوں کے مفاد میں ہے، بلکہ آکسیجن کی طرح ہے، لڑائیاں بہت لڑی جاچکیں، ان سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا۔ مولانا مرحوم کا پختہ خیال تھا کہ مسلمان دعوت ہی کے ذریعے دنیا کا مقابلہ کر سکتے اور اسے تبدیل کر سکتے ہیں۔ دشمن بن کر، دشمن سمجھ کر یا دشمن بنا کر اپنی جنت تعمیر نہیں کی جاسکتی۔ (بشکریہ روزنامہ دنیا) ایک اور ”خدا پرست“ خدا سے جا ملا۔ ان شاء اللہ جنت میں ملاقات ہوگی۔ (اگر یہ گناہگار وہاں پہنچنے میں کامیاب ہو گیا)۔ محمد حذیفہ ندیم ملتان مولانا وحید الدین خان صاحب اپنے عہد کے عظیم انسان تھے اور اور اسلام کے لیے مولانا صاحب کی خدمات بلا شبہ سنہرے حروف میں لکھی جائیں گی۔ (عنصر عباس، چینوٹ)
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues