Al-Risala · August 2021 · page 95

Political activism or futile activism

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۹۵

میرے مینٹر، میرے گائیڈ ڈاکٹر سفینہ تبسم، سہارن پور، یوپی میں نے 2007 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اپنی پڑھائی مکمل کی۔ اس وقت میرے دل میں یہ خیال آیا کہ میں مولانا کی کوئی کتاب پڑھوں۔ کیونکہ میرے گھر میں الرسالہ اور دوسری کتابیں آتی تھیں ۔ میں نے 'گائیڈارائزر نام سے مولانا کی ایک کتاب پڑھی۔ ابھی وہ کتاب پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ مجھے لگا کہ مولانا نے مجھے میرے خدا سے انٹروڈیوس کرا دیا۔ میں اندھی تھی، جو اتنے سال سائنس کی اسٹوڈنٹ رہنے کے باوجود اللہ کی معرفت نہ حاصل کر سکی تھی۔ مولانا کی کتاب سے یہ معلوم ہوا کہ سائنس کے ذریعے میں خدائی حقیقتوں کو مزید بہتر طور پر پاسکتی ہوں۔ یہ دیکھ کر میں دنگ رہ گئی ۔ پھر میں نے الرسالہ کا مستقل مطالعہ شروع کر دیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ میرے اندر کی پرتیں ہٹا کر الرسالہ کی آئیڈیولوجی پینیٹریٹ کر دی گئی ہے ۔ سال 2010 سے میں نے ریگولر طور پر مولانا کی سنڈے کلاسوں میں جانا بھی شروع کر دیا۔ اس کے بعد مولانا نے میری سوچ پوری طرح ٹرانسفارم کر دی ۔ مولانا نے سب سے زیادہ مجھے سوچنا ( آرٹ آف تھنکنگ ) سکھایا، تدبر، تفکر اور توسم پر زور دیا، جس سے میں انجان تھی۔ نگيٹیوٹهنکنگ سے نکال کر پازیٹیوٹهنکنگ میں جینا سکھایا، ’’ کریٹیوٹهنکنگ ہے‘‘ یہ بتایا ۔ مائنڈ بیسڈ اسپرچولٹی کو میں مولانا ہی سے جانا۔ آج میں یہ سوچتی ہوں کہ مولانا نہ ہوتے تو میں اندھیروں میں زندگی کاٹ رہی ہوتی۔ مجھے یہ مشن نہ ملا ہوتا تو میں ” ٹکاثر کلچر میں جی رہی ہوتی ، اللہ سے کنکٹ نہیں ہو پاتا، اپنے خالق سے حبّ شدید ڈیولپ نہیں کر پاتی، اور یہ میرے لیے سب سے بڑا نقصان ہوتا ۔ کیونکہ زندگی ایک بار ملتی ہے اور اگر گز زندگی میں انسان کو معرفت نہ ملی تو دوسرا موقع اس کو ملنے والا نہیں۔

میں نے مولانا کو ہمیشہ دو چیزوں کو کنسَرن بناتے دیکھا ہے اپنے لیے معرفت اور دوسرے کے لیے دعوت ۔ یہی کلچر میں چاہتی ہوں کہ میرے اندر بھی پوری طرح سے آجاۓ۔ اللہ میری مدد کرے ( آمین ) ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page