Al-Risala · August 2021 · page 96

Political activism or futile activism

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۹۶

مولانا سے یادگار ملاقات مولانا فیاض الدین عمری، گلبرگہ، کرناٹک 28 مارچ 2008 جمعہ کا دن تھا۔ استفادہ کی غرض سے میں نے مولانا وحید الدین خاں صاحب سے فون پر ملاقات کا وقت مانگا تھا۔ مولانا نے C29 آنے کی اجازت دے دی۔ مولانا نے مجھ سے ہماری دعوتی ٹیم کی ساری سرگرمیوں کو بغور سنا۔ اور اس مجلس میں مجھ سے کہا کہ آپ داعی نہیں ہیں! میں نے حیرت سے استفسار کیا کہ وہ کیسے؟ میں تو دس سال سے مکمل دعوتی سرگرمیوں میں مصروف ہوں۔ کیسے آپ یہ کہتے ہیں کہ میں داعی الی اللہ نہیں ہوں۔ ۔!!؟

مولانا نے میری اسکروٹنی کی خاطر مجھ سے پوچھا کہ سچ سچ بتائیے کہ آپ کو ہندوؤں سے نفرت ہے یا نہیں؟ میں نے کہا کہ بالکل بھی نہیں۔ مولانا نے پھر پوچھا کہ ٹھیک ہے آپ کو ہندوؤں سے نفرت نہیں ہے مگر کٹّر واد ہندوؤں سے ضرور نفرت ہوگی؟ میں نے جواب دیا کہ ان سے بھی مجھے نفرت نہیں ہے! مولانا نے پھر مجھ سے پوچھا کہ بتائیے آپ یہود سے نفرت کرتے ہیں یا نہیں؟ میں نے کہا کہ ہاں بالکل میں یہود سے نفرت کرتا ہوں۔ مولانا نے پوچھا کہ آپ ان سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟ میں نے کہا کہ اس لیے کہ وہ ہماری خواتین اور بچوں کو قتل کرتے ہیں! مولانا نے کہا کہ کیا یہود ہمارے مدعوونہیں ہیں ! ؟ رسول اللہ ان کی طرف بھی مبعوث ہیں یا نہیں ! ؟ میں نے کہا کہ ہاں ان کی طرف بھی رسول اللہ مبعوث ہیں۔ مولانا نے کہا کہ پھر ان سے نفرت کیسی؟ ! یاد رکھیے کہ آپ ہر گز ہر گز جنت میں کسی انسان کی نفرت کے ساتھ داخل نہیں ہو سکتے، جنت میں داخلہ کی شرط نفرت سے خالی ذہن ہے۔ حدیث میں اہل جنت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ أَفْئِدَتُهُمْ مِثْلُ أَفْئِدَةِ الطَّيْرِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2840) ۔ ان کے دل چڑیوں کے دل کی مانند ہوں گے۔

آپ ابھی اور اسی وقت اپنے دل سے نفرت ختم کیجیے، ورنہ آپ کا جنت میں داخلے کا معاملہ مشکل میں پڑ جائے گا۔ میں نے اسی وقت 28 مارچ 2008 کو مولانا سے وعدہ کیا کہ میں آج کے

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page