Political activism or futile activism
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۹۷
بعد کسی بھی انسان سے شکایتوں کے باوجود نفرت کو روا نہیں رکھوں گا۔ 21 اپریل 2021 کو مولانا کا نئی دہلی کے اپولو ہسپتال میں انتقال ہوگیا، مولانا نے انتقال سے کچھ دن قبل اپنے ٹیم ممبرز کو یہ وصیت کی کہ:
”اس دنیا میں سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ آدمی یہاں اس طرح زندگی گزارے کہ اس کے دل میں کسی کے خلاف ذرا بھی نگیٹیوٹھاٹ نہ ہو۔ وہ دنیا سے اس طرح چلا جائے کہ اس کا مائنڈ پوری طرح پازیٹیو مائنڈ ہو۔ اس دنیا کی یہی میری آخری دریافت ہے۔ “ (الرسالہ جون- جولائی 2021) مولانا وحید الدین خان کی رحلت، مذہبی فکر میں توازن، متانت اور روشن فکری کے ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ وہ نئے زمانے کے مسائل و سوالات کے تناظر میں مذہبی فکر پر نظر ڈالتے تھے اور مذہب کو نئے زمانے میں بیگانہ تصور نہیں کرتے تھے۔ وہ جدید ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کو گمراہ کن قرار دینے کی بجائے انھیں سمجھنے اور اسلام کی روشنی میں جواب تلاش کرتے تھے۔ وہ سادہ، منطقی ومدلل زبان میں نئی نسل کی خاص طور پر رہنمائی کرتے تھے اور ان کے دل میں باوقار انداز میں اور خدائی اصولوں کے مطابق جینے کی امنگ پیدا کرتے تھے۔ مولانا وحید الدین خان ایک ان تھک عالم تھے اور غیر معمولی متجسس ذہن کے مالک تھے۔ ان کی ڈائریاں ان کے شب روز کا احوال بتاتی ہیں کہ کیسے وہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے، عام سے واقعات کی مدد سے گہری مذہبی بصیرت اخذ کرتے اور عام کرتے تھے، ”راز حیات“ تو ہر نوجوان کو پڑھنی چاہیے۔ ( ناصر عباس نیر، سابق ڈائریکٹر اردو سائنس بورڈ، پاکستان ) پوری انسانیت کے لیے رو رو کر دعائیں مانگنے والے ہونٹ آج خاموش ہو گئے۔ ( عامر قریشی، کوہاٹ، پاکستان )
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues