وہ جو آنسوؤں پر ٹھہرا ہوا تھا
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۹۸
وہ جو آنسوؤں پر ٹھہرا ہوا تھا
مولانا خطیب اسرار الحسن عمری، سی پی ایس (چنئی)، تامل ناڈو 21، اپریل، 2021 کی رات ماہنامہ الرسالہ جون 2021 کی پروف ریڈنگ کر کے بستر پر لیٹا ہوا تھا اور یہ سوچ رہا تھا کہ صبح میں مولانا فرہاد صاحب کو ای میل کردوں گا۔ اور یہ بھی ذہن میں بات چل رہی تھی کہ مولانا وحید الدین خاں صاحب کی طبیعت دن بدن بگڑتی جارہی ہے لیکن آپ کا ماہنامہ الرسالہ جون 2021 کی ترتیب حسب معمول وقت پر مکمل ہوچکی ہے۔ امید تھی کہ مولانا اس رسالہ کا اجرا اپنے ہاتھ سے فرمائیں گے اور ہم سے اس کا فیڈ بیک مانگیں گے۔ اور اسی کے ساتھ مولانا کے لیے مکمل صحت کی دعا کرتے ہوئے آنکھ بند کر لی۔
شب کے گیارہ بجے مولانا اقبال عمری کا فون آیا اور میں نے گھبراتے ہوئے فون ریسیو کیا تو اقبال صاحب کی مغموم آواز آئی کہ اب مولانا ہمارے درمیان نہیں رہے۔ فوراً میں نے مولانا کے لیے دعا کرتے ہوئے فون بند کر کے CPS International کا آفیشیل واٹس ایپ گروپ کو چیک کیا تو اس میں مولانا کے فرزند ڈاکٹر ثانی ثنین خان صاحب کا میسج تھا: Inna Lillahi wa Inna Ilaihi rajiwoon. With great sadness we want to share the passing away of Maulana Wahiduddin Khan. He has left us one big family to stay united and work for the cause of Dawah. Please do dua. (10:52 pm, 21.01.2021)
اور اس کے نیچے CPS International کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر رجت ملہوترا کا یہ پیغام تھا: Our training is over and now we have to work together as Dr sahab has stated above as one family. مولانا کی وفات کی خبر سننے اور یہ میسجس پڑھنے کے بعد میں بڑے بوجھل دل کے ساتھ کھڑا ہوا اور دو رکعت نماز ادا کر کے مولانا کے لیے اور آپ کے دعوتی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے خوب دعا کی۔ مگر دل بے قرار و پریشاں تھا۔
اس وقت مجھے مولانا کی ایک بات یاد آئی کہ جب کبھی آپ کو کوئی پریشانی لاحق ہو تو آپ قرآن
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues