وہ جو آنسوؤں پر ٹھہرا ہوا تھا
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۹۹
لے کر کسی صفحے کو کھول کر دیکھیں، اس میں ضرور آپ کے لیے کوئی رہنمائی (guidance) ہوگی۔ تو میں نے قرآن کھول کر دیکھا تو میری نظر سورہ یونس کی اس آیت پر پڑی: فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمْرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (10:16)۔ یعنی میں اس سے پہلے تمھارے درمیان ایک عمر بسر کر چکا ہوں ، پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔
اس آیت کو پڑھتے ہی میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ گویا خدا یہ کہہ رہا ہے کہ دیکھو مولانا تمھارے درمیان 96 سال کی زندگی بسر کر چکے ہیں۔ کیا اس میں تمھارے لیے کوئی رہنمائی نہیں ۔ تو میرے ذہن میں اس وقت مولانا کی پوری زندگی گھومنے لگی۔
مولانا سے میری پہلی ملاقات سے لے کر آخری ملاقات تک کے سارے واقعات یاد آنے لگے ۔ آپ کی تمام مجالس میں ایک بات جو مشترک تھی وہ یہ کہ خدا کی یاد اور روزِ قیامت کا چرچا۔ آج سے ہیں سال پہلے اگست 2001 کو پہلی بار مولانا سے ملاقات کے لیے آپ کے دفتر C-29 ، نظام الدین ویسٹ، نئی دہلی میں شیخ ریاض موسی ملیباری مرحوم اور مولانا فیاض عمری کے ساتھ حاضر ہوا تھا۔ یہ ملاقات فیاض صاحب نے طے کروائی تھی۔ جب ہم مولانا سے ملاقات کے لیے حاضر ہوئے تو شیخ ریاض موسی صاحب نے مولانا کی خدمت میں ایک قلم اور ایک مسواک کا تحفہ دیا اور کہا کہ ہم نے آپ کی ڈائری میں پڑھا ہے کہ آپ کو یہ دونوں چیزیں پسند ہیں۔ مولانا نے جواب دیا کہ ہاں، یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ میں جوان تھا لیکن میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں، اب میری عمر 75 سال کی ہو چکی ہے۔ اب میرے قدم قبر کے قریب ہو چکے ہیں۔ اور موت میرے بہت قریب ہے۔
آج کل مجھے یہ فکر رہتی ہے کہ اگر اچانک فرشتے آ کر مجھے خدا کے سامنے حاضر کر دیں تو میں خدا کے سامنے اپنا کون سا عمل پیش کر سکتا ہوں جو میری نجات کا باعث بنے۔ عموماً لوگ ایک کتاب تصنیف کر کے یہ لکھتے ہیں کہ یہ کتاب میرے لیے وسیلہ نجات ہوگی۔
لیکن جب میں یہ سوچتا ہوں کہ خدا کے سامنے میری تصنیف کردہ ان کتابوں کی کیا حقیقت ہوگی جب کہ ایک چھوٹی سی دیا سلائی ان کو جلا کر راکھ (ashes) میں تبدیل کرنے کے لیے کافی ہے تو میں ان کو کیسے خدا کے سامنے پیش کر سکتا ہوں ۔ جب کہ خود رسول اللہ نے کہا تھا کہ میری نجات
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues