Al-Risala · August 2021 · page 100

مولانا اور حب الہی

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۰۰

صرف خدا کے فضل ورحمت سے ہوگی میرے عمل سے نہیں۔ إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ ( صحیح مسلم، حدیث نمبر 2816)۔ جب ایک نبی خود خدا کی رحمت وفضل کا محتاج ہے تو میری اور میری تصنیفات کی خدا کے سامنے کیا حقیقت ہوگی۔ مگر یہ کہ خدا مجھ پر اپنا فضل کرے ۔ میں آج کل خدا سے اسی رحمت اور فضل کی دعا کرتا رہتا ہوں ۔ یہ کہہ کر مولانارو پڑے اور مسلسل آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ اور میں حیرانی سے پہلی بار کسی بڑے عالم کو آخرت کے ذکر پر روتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔

یہ مولانا کے ساتھ میری پہلی ملاقات کا حال تھا اور اس کے بعد 2001 سے 2021 تک مولانا سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ ہر مجلس کی یہی کیفیت ہوتی تھی، یہاں تک کہ آپ اپنے خالق سے جا ملے۔ میں اور مشن کے تمام ساتھی اس بات کے گواہ ہیں کہ آپ کی کوئی بھی مجلس اور گفتگو خدا کے ذکر اور آخرت کی یاد سے خالی نہیں ہوتی تھی۔ ہر مجلس میں آپ کو خدا کی یاد پر روتا ہوا پایا۔ گویا کہ آپ ہمیشہ انہیں آنسوؤں پر ٹھہرے ہوئے ہیں۔ آپ کہا کرتے تھے کہ میرا مشن خدا کے سامنے آنسوؤں پر ٹھہرا ہوا ہے۔ اس لیے خدا اس مشن کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔

مولانا اور حب الہی

مولانا وحید الدین خان ہمیشہ قرآن کی آیت وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ (2:165) پر بہت سوچا کرتے تھے، یعنی اور جو ایمان والے ہیں، وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔ اور کہا کرتے تھے کہ اس آیت میں خدا سے حب شدید کا ذکر کیا گیا ہے۔ مگر تاریخ میں حب شدید کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔ حب شدید خدا سے اسی وقت ممکن ہے جب کہ ہر دوسری چیز کی محبت دل میں ذرہ برابر نہ ہو۔ میں نے پہلی بار مولانا کی زندگی سے یہ جانا کہ خدا سے شدید محبت کیا ہوتی ہے۔ مولانا ہمیشہ اپنے آپ کو ہر اس چیز سے دور رکھتے تھے جس سے ان کو محبت ہو جانے کا اندیشہ ہو۔ جیسے لگژوریس لائف، مہنگے کپڑے اور پر لذت کھانا، حتی کہ اپنی اولاد سے بھی بے جا پدرانہ محبت سے دوری بنائے رکھنا تا کہ کہیں ان سے محبت خدا کی محبت پر غالب نہ آجاۓ ۔

ایک بار میں نظام الدین ویسٹ میں مولانا کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔ مولانا درس دے رہے تھے اور اس مجلس میں زیادہ تر علماء تھے۔ درس کے بعد سوال و جواب کی نشست رہی ۔ اسی دوران

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page