Al-Risala · January 2021 · page 6

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۶

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۶

کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو آدمی کو اس سے ناپتے ہیں کہ اس کے پاس بلڈنگ اور کار وغیرہ ہے یا بلڈنگ اور کار نہیں وغیرہ ہے۔ میرے نزدیک یہ سادہ سی بات نہیں ہے۔ یہ دراصل دوزخ کی اصطلاحوں میں سوچنا ہے۔ ایسے لوگ دوزخ کے مومنین ہیں۔ اگر چہ خوش فہمی کے تحت وہ اپنے آپ کو جنت کے مومنین میں شمار کرتے ہیں۔

ایک عیسائی پادری تشریف لائے۔ ان کا نام اور پتہ درج ذیل ہے:

REV John, Preacher in Church of God, Sector 33, Chandigarh دورانِ گفتگو میں نے کہا کہ مسیحیت کا بنیادی عقیدہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کفارہ۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ کفارہ کو بنیادی عقیدہ کہتے ہیں حالاں کہ وہ موجودہ انجیل میں کہیں واضح طور پر موجود ہی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہے۔ میں نے انھیں انجیل کا انگریزی ترجمہ دیا کہ نکال کر بتائیے کہ کہاں ہے۔ وہ تقریباً آدھ گھنٹہ انجیل کے اوراق الٹتے رہے۔ بالآخر اس کا ایک صفحہ نکالا۔ میں نے کہا کہ یہ محض آپ کی تاویل ہے۔ ورنہ اس عبارت سے براہ راست طور پر کفارہ کا عقیدہ نہیں نکلتا۔ کیسی عجیب ہے موجودہ مسیحیت کہ اس کا بنیادی عقیدہ ہی انجیل کے عبارت النص میں موجود نہیں۔ اس کے برعکس، اگر آپ کسی مسلمان سے پوچھیں کہ قرآن کا بنیادی عقیدہ کیا ہے، تو وہ فوراً کہے گا کہ توحید۔ اس کے بعد اگر آپ پوچھیں کہ توحید کا عقیدہ کس آیت سے نکلتا ہے تو وہ فوراً پڑھ دے گا: قُلْ ہُوَ اللَّهُ أَحَدٌ کتنا فرق ہے، محرف دین میں اور غیر محرف دین میں۔ ایک صاحب سنگاپور سے تشریف لائے۔ انھوں نے بتایا کہ وہاں مسجدوں میں لاؤڈ اسپیکر سے اذانیں ہوتی ہیں۔ اس سلسلے میں وہاں کے غیر مسلم حضرات میں ناراضگی پیدا ہوگئی۔ خاص طور پر عشا اور فجر کی اذان کے متعلق ان کا مطالبہ ہے کہ اس کو لاؤڈ اسپیکر پر دینا بند کیا جائے۔ اس سلسلے میں سنگاپور کے بدھسٹ وزیر اعظم نے اپنی ایک تقریر میں مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues

Printed page