Al-Risala · January 2021 · page 42

Done is Undone

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۴۲

حیدر آباد کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ حیدر آباد میں ایک ہندو نے اسلام قبول کیا ہے۔ انھوں نے اس نومسلم سے پوچھا کہ تم نے اپنا مذہب چھوڑ کر اسلام کیوں اختیار کیا۔ نومسلم نے چند باتیں بتائیں جن میں ایک یہ تھی۔ انھوں نے کہا کہ میں مسلم محلہ میں رہتا ہوں۔ وہاں ایک مسجد ہے۔ میں دیکھتا تھا کہ جو مسلمان بھگوان کی عبادت کے لیے آتا ہے وہ وضو کرتا ہے اور پھر نماز پڑھتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ اس کو خدا تک پہنچنے کے لیے کسی درمیانی واسطے کی ضرورت نہیں۔ اس کے برعکس، مندروں میں جب میں جاتا تھا تو میں دیکھتا تھا کہ وہاں مندر کے مہنت کا ذریعہ اختیار کیے بغیر کوئی شخص پوجا نہیں کر سکتا۔

یہ بات بہ ظاہر سادہ سی ہے مگر نہایت اہم ہے۔ انسان فطری طور پر خدا کو پانا چاہتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو خدا کے آگے ڈال دینا چاہتا ہے۔ مگر دوسرے مذاہب میں بگاڑ کی وجہ سے یہ حال ہو گیا ہے کہ آدمی جب مندر اور چرچ میں جاتا ہے تو وہاں وہ پاتا ہے کہ کلرجی (clergy) کے بغیر وہ خدا تک نہیں پہنچ سکتا، اور نہ اس کے بغیر وہ خدا کی عبادت کر سکتا۔ اس طرح اس کو اپنے جذبہ پرستش کی پوری تسکین حاصل نہیں ہوتی۔ اسلام میں یہ صورت حال نہیں۔ اسلام میں ہر آدمی براہ راست خدا کو پکار سکتا ہے۔ وہ براہ راست خدا کی عبادت کر سکتا ہے۔

اس ضمن میں ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے، جس کا تعلق موجودہ زمانے سے ہے۔ موجودہ زمانہ آزادی اور جمہوریت کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں ہر آدمی اپنے آپ کو دوسرے کے برابر سمجھتا ہے۔ اس زمانی مزاج کی وجہ سے لوگوں کو یہ بات پسند نہیں آتی ہے کہ کوئی طبقہ ان سے اوپر ہو۔ لوگ جس مقام پر خود ہیں، وہیں وہ کلرجی کو بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بات آج صرف اسلام میں پائی جاتی ہے۔ اس طرح اسلام انسانی فطرت کے مطابق بھی ہو جاتا ہے، اور وقت کے تقاضے کے مطابق بھی۔ اسلامک انسٹی ٹیوٹ، تغلق آباد، میں ایک میٹنگ تھی۔ میں بھی اس میں شریک تھا۔ میٹنگ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues

Printed page