Al-Risala · August 2021 · page 101

مولانا اور حب الہی

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۰۱

مولانا کے پوتے عدنان خان مولانا کے کمرے میں اپنے کسی کام سے آئے اور کچھ دیر بعد چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد مولانا نے پوچھا کہ کون صاحب تھے۔ مولانا کو بتایا گیا کہ آنے والے آپ کے پوتے عدنان تھے۔ مولانا یہ سن کر تھوڑی دیر خاموش رہے پھر کہا کہ کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ ایک بوڑھے انسان کو سب سے زیادہ کس سے محبت ہوتی ہے؟ حاضرین خاموش تھے۔ خود مولانا نے جواب دیا کہ ایک بوڑھے انسان کو سب سے زیادہ محبت اپنے پوتے سے ہوتی ہے۔ مولانا نے سلسلہ گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ عدنان میرے پوتے ہیں پھر بھی میں نے کبھی ان کو آنکھ بھر کر نہیں دیکھا۔ جب بھی وہ میرے سامنے آتے ہیں تو میں اپنی نظریں پھیر لیتا ہوں۔ میں ایسا اس لیے کرتا ہوں تاکہ اس کی محبت خدا کی محبت پر غالب نہ آجائے۔ پھر مولانا نے روتے ہوئے کہا کہ میں خدا سے حب شدید کے لیے کوئی بھی قیمت دے سکتا ہوں، لیکن خدا سے حب شدید میں کسی طرح کی کمی کو برداشت نہیں کر سکتا، اور خدا مجھے کیسے معاف کر سکتا ہے اگر میرے دل میں اس کے لیے حب شدید نہ ہو۔ اور میں اس حب شدت میں کسی کو شریک کر لوں! اس واقعے سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مولانا کے دل میں کس قدر خدا سے حب شدید تھا۔ یہی وہ حب شدید ہے جو خدا کو بندے سے مطلوب ہے جس کو مذکورہ آیت (2:165) میں بیان کیا گیا ہے۔

خدا مولانا کو غریق رحمت کرے اور ہم سب کو مولانا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تاحیات خدا کی معرفت حاصل کرنے کی توفیق دے اور انسانوں کا خیر خواہ بن کر خدا کے پیغام کو ہر گھر تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

بے شک مولانا سے ہم نے بھی بہت کچھ سیکھا ہے ۔ معرفت الہی، سفر آخرت کی تیاری، عالم انسانیت سے محبت، امن عالم اور دعوت دین مبین جیسے موضوعات پر انہوں نے جس درد دل سے اپنا پر تاثیر قلم اٹھایا اور جس دلکش فطری اسلوب میں اپنا مشن صفحہ قرطاس پر منتقل کیا، اب شاید ہی اس جیسی سحر انگیز تحریر سے ہم بہرہ مند ہو سکیں۔ (پروفیسر بخت ایاز خان، کے پی کے)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page