Al-Risala · August 2021 · page 102

مولانا اور حب الہی

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۰۲

ایک تاثر ذیل کا تاثر مولانا وحید الدین خان صاحب کے انتقال سے کچھ دنوں پہلے ایک نوجوان نے لکھ کر دیا تھا مولانا، میں نے آپ کی اکثر کتابوں کو پڑھا ہے۔ بہت کچھ سیکھا ہے اور بھی سیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ آپ نے پورے دل کے ساتھ اپنی ذمہ داری کو ادا کیا ہے۔ اللہ کی مدد سے آپ نے الحاد(atheism) کے خلاف نہایت اہم کام کیا ہے۔ سائنسی دور میں آپ نے زمانے کو بڑا گہرا علم دیا ہے جس سے پورا عالم فیض یاب ہو رہا ہے۔ بہت آسان کر دیا ہے آپ نے الحاد کو جواب دینا، سائنس کی روشنی میں بھی اور عقل کی روشنی میں بھی۔ میں آپ سے مل نہیں سکتا اس لیے خیال آیا کہ خط کے ذریعے اپنے دل کی بات آپ تک پہنچادوں۔ میں نے اکثر لوگوں کو ایک غلطی کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ جب وہ کسی کو پڑھتے ہیں یا سنتے ہیں تو اس سے متاثر ہو کر صرف اس کے استدلال کی، اس کے انداز بیان کی تعریف کرتے ہیں، پھر اس کو بھول جاتے ہیں، اس سے جڑتے نہیں۔ میں نے آپ کی کتابوں کو پڑھتے وقت اس سے بندھنے کی کوشش کی ہے۔ نیک انسان اللہ کی نعمت ہیں، آپ بھی اللہ کی نعمت ہیں۔ آپ بڑھاپے کو پہنچ گئے ہیں۔ اللہ کے پیغام کی دعوت آپ اپنے لرزتے ہونٹوں سے ہم تک پہنچا رہے ہیں۔ یہ سب محنت آپ کیوں کر رہے ہیں۔ یہ اس لیے کہ اللہ نے آپ کو اپنے علم و حکمت سے نوازا ہے، آپ اللہ کی تعریف کرنا چاہتے ہیں، آپ انسانوں کو اللہ تک پہنچانا چاہتے ہیں، آپ اللہ کی پہچان کرانا چاہتے ہیں۔ آپ نے اپنی پوری زندگی اللہ کی تعریف، شکر، معرفت حاصل کرنے اور انسانوں تک اللہ کا پیغام پہنچانے میں خرچ کر دی۔ میں سارے انسانوں کی طرف سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں آپ کی والدہ کی لیے دعا کرتا ہوں کہ بڑی سنجیدگی سے انھوں نے آپ کی پرورش کی۔ آپ کے استاذوں کے لیے بھی اور ان سب لوگوں کے لیے بھی جنھوں نے آپ کا ہاتھ بٹایا۔ اللہ تعالیٰ آپ کے والد، والدہ، آپ کی ٹیم کا بڑی خوشی کے ساتھ استقبال کریں گے اور اپنے پڑوس میں بسائیں گے۔ (عبد الصمد خان، امروبہ)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page