مولانا اور حب الہی
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۰۳
کچھ یادیں مولانافرہاداحمد،نئی دہلی تقریباً 2014 کے نصف ثانی سے مجھے مولانا وحید الدین خاں صاحب (2021-1925)
کی بطور معاون خدمت کرنے کا موقع ملا۔ مولانا کے آخری ایام میں آٹھ سے دس گھنٹے بھی میں ان کے ساتھ رہا ہوں۔ مولانا سے میری سب سے پہلی ملاقات سی پی ایس علما ٹیم کے ذریعے غالباً 2012 میں ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں مولانا نے میرے بارے میں کہا تھا کہ یہ آدمی فرقان کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے:
This man doesn't know the art of differentiation. اس وقت سے میں برابر اس صلاحیت کے لیے دعا کرتا ہوں۔ مولانا سے بڑی بات جو مجھے سیکھنے کو ملی، وہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ کھلے دل کے ساتھ ہر ایک سے لرننگ کے لیے تیار رہتے تھے۔ ان کی زندگی کا فارمولا تھا، جس پر وہ مکمل طور پر عمل کرتے تھے— سمپل لونگ، ہائی تھنکنگ۔ اس لیے اگر کوئی مولانا کے پاس آتا تھا تو وہ ان سے پوچھتے تھے کہ’’کوئی آئٹم بتائیے‘‘۔ یعنی لرننگ کی کوئی بات۔ میں نے کئی مرتبہ مضمون لکھتے وقت مولانا کی رائے کے خلاف اپنی رائے دی، وہ ان کو معقول لگی تو اپنی رائے کو ترک کر دیا، اور میری رائے کو اختیار کیا۔ یہ معاملہ صرف میرا نہیں ہے، ہر ایک کے ساتھ مولانا کا یہی طریقہ تھا۔ وہ ہر وقت اپنے خلاف تنقید کو معتدل انداز میں سنتے تھے۔ کسی کی تنقید سے وہ غصہ نہیں ہوتے تھے۔ اگر معقول تنقید ہوتی تو علمی رسپانس دیتے، ورنہ خاموش ہوجاتے، اور اس کے لیے دعا کرتے۔ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ وہ خدا میں جینے والے انسان تھے۔ خدا کی معرفت، گویا، ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ میرا مشاہدہ یہ تھا کہ وہ ہر ناخوشگوار واقعے میں ایک خوشگوار پہلو تلاش کر کے شکر میں جیتے تھے۔
ایک مرتبہ میں عمری ٹیم کے ساتھ مولانا کے پاس گیا۔ اس وقت وہ ایک چھوٹی سی پتی(leaf) اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے تھے، جو درخت سے ٹوٹ کر گر گئی تھی۔ ہم لوگوں کو دیکھ کر کہا: آئیے، یہ پتی
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues