Inayatullah, live the life of a scholar.
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۰۶
تھے، جس کو تنقید کہتے ہیں۔ مولانا کے الفاظ میں، تنقید دراصل علمی تجزیہ (scientific analysis) کا دوسرا نام ہے۔ تنقید حقیقتًا وہی ہے جو علمی تجزیہ کے اسلوب میں کی جائے۔ جو تنقید علمی تجزیہ سے خالی ہو، وہ بلاشبہ عیب جوئی اور الزام تراشی کے ہم معنی ہے۔ اس قسم کی تنقید علمی اعتبار سے بے بنیاد ہے، اور شرعی اعتبار سے بلاشبہ ایسی تنقید ایک سنگین گناہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ‘‘ (الرسالہ، مارچ 2016)۔ تنقید وہی چیز ہے، جس کو قرآن وحدیث میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کہا گیا ہے۔
دینی معاملے میں ایک قابل ذکر بات جو مولانا کے پاس دیکھنے کو ملی وہ اجتہاد کا معاملہ تھا۔ موجودہ زمانے میں جو تبدیلی آئی، اور اس بنا پر جس جرات کے ساتھ اجتہادی عمل کی ضرورت تھی، اس میں دوسرے علماء ناکام رہے۔ اس کا ریزن شاید ان کا خود ساختہ مقدس ماحول تھا، جس سے باہر نکل کر وہ سوچنا نہیں چاہتے تھے۔ مگر مولانا نے خود ساختہ تقدس کے اس ماحول سے اوپر اٹھ کر سوچا، اور انتہائی پریکٹیکل اجتہادی حل پیش کیا۔ اس کو مولانا کی کتاب، فکر اسلامی، اجتہادی مسائل، اظہار دین وغیرہ میں دیکھا جاسکتا ہے۔ مولانا کا یہ اجتہادی عمل، میرے مطالعے کے مطابق، کوئی نیا عمل نہیں ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب اسلام عرب سے باہر نکلا تو مسلمانوں کو نئے حالات پیش آئے۔ اس وقت صحابہ کرام نے حالات کی تبدیلی کو سمجھا اور اجتہاد کا عمل اختیار کیا تھا۔ مثلاً اصحاب رسول حضرت عمر اور عبد اللہ بن مسعود وغیرہ۔ پھر ان کے بعد کے فقہائے اسلام نے منظم طور پر اس کام کا آگے بڑھایا۔ مثلاً امام ابو حنیفہ اور امام مالک، وغیرہ۔ اس کی تفصیل ابن القیم کی معروف کتاب اعلام الموقعین میں دیکھی جاسکتی ہے۔ ان کا یہ اجتہادی عمل کوئی آخری عمل نہیں تھا، جس کے بعد کوئی دوسرا اجتہاد نہ کرسکے، بلکہ وہ اجتہادی پر اس کے لیے نقش اول کی حیثیت رکھتا تھا۔ مولانا نے تبدیلی حالات کو سمجھ کر جو کام کیا، وہ بھی اسی اجتہادی پر اس کا حصہ ہے۔
عام طور پر لوگ مولانا کو عقلیت پسند سمجھتے ہیں۔ مگر ایک عالم کی حیثیت سے میرا ذاتی تجربہ اس کے برعکس ہے، وہ قرآن وسنت کو پورے طور پر مانتے تھے۔ مثلاً ایک مرتبہ عمری ٹیم مولانا کے پاس استفادہ کے لیے آئی ہوئی تھی۔ اس مرتبہ مولانا نے فیصلہ کن انداز میں ان سے کہہ دیا کہ اب آپ لوگ یہاں مت آئے گا۔ ٹیم کے ایک ممبر فیاض الدین عمری صاحب نے مولانا کو ایک حدیث سنائی جس میں ہے کہ تعلیم کے لیے آنے والوں کو نہ روکو، ان کو سکھاؤ (سَیَأْتِیکُمْ أَقْوَامٌ یَطْلُبُونَ الْعِلْمَ،
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues