Done is Undone
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۴۳
میں انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اوصاف علی صاحب نے ادارے کا تعارف کرایا۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ کے یہاں جو افراد ریسرچ کا کام کر رہے ہیں، ان کو آپ کیا سہولیات دیتے ہیں۔ ڈاکٹر اوصاف علی صاحب نے جواب دیا کہ ہم اپنے آدمیوں کو وہی سہولتیں دیتے ہیں، جو یو جی سی کی طرف سے مقرر ہیں۔ مزید یہ کہ ہم ان کو اپنے کیمپس میں رہائش گاہ بھی فراہم کرتے ہیں۔
سوال کرنے والے نے کہا کہ یہ گویا یہاں کے افراد کے لیے مزید ایک attraction ہے۔ ڈاکٹر اوصاف علی صاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ ہاں، مگر وہ ہمارے لیے distraction بن رہا ہے۔ اس لیے کہ جو لوگ ایک مرتبہ رہائش گاہ پر قبضہ کر لیتے ہیں، وہ پھر اس کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ان سے رہائش گاہ کو خالی کرانے کے لیے ہمیں کورٹ جانا پڑتا ہے۔ تغلق آباد کا یہ ادارہ خالص مسلم ادارہ ہے۔ اس میں کام کرنے والے بھی سب کے سب مسلم ہیں۔ اس کے باوجود ذمے داران اور کارکنوں کے درمیان اس طرح کے جھگڑے پائے جاتے ہیں۔ اس قسم کے جھگڑے اگر مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ہوں تو فوراً اس کو تعصب کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ایسے لوگ مذکورہ مسئلے کے بارے میں کیا کہیں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں تمام جھگڑے انٹرسٹ (interest) کے جھگڑے ہیں۔ بظاہر کوئی شخص ایک قسم کی زبان استعمال کر رہا ہے اور کوئی شخص دوسری قسم کی زبان۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے سب کا کیس ایک ہی کیس ہے، اور وہ وہی ہے، جس کو انٹرسٹ“ کہا جاتا ہے۔ اس دنیا میں کامیابی کے لیے سب سے ضروری چیز حقیقت پسندی ہے۔ مگر موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ کسی بھی معاملے میں حقیقت پسندانہ انداز سے رائے نہیں قائم کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا ہر اقدام ناکامی کا شکار ہوتا ہے۔
ستمبر 1982 میں میں نے شیخ سلیمان القائد (لیبیا) کے ساتھ حج کے لیے سعودی عرب کا
‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues