Al-Risala · August 2021 · page 111

Twitter.com/narendramodi, 22 April, 2021

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۱۱

اسلام کے پرامن دعوتی پیغام کو عام کرنے کے لیے مولانا نے تقریر و تحریر کے علاوہ ہند وبیرون ہند کے متعدد اسفار کیے، جس کا سلسلہ جاری ہے۔ انھوں نے پاکستان، لیبیا، لندن، سعودی عرب، مالدیپ، باربیڈوز، امریکہ، عرب امارات، ملایشیا، مراکو، بہام کو، رومانیہ، سوئزرلینڈ، افغانستان، یمن، اردن، سینیگال، روم، مالٹا، قاہرہ، کولمبو، اٹلی، اسپین، فلسطین، فرانس، عمان، بنگلہ دیش، سیول، قبرص، اسرائیل، پولینڈ، قطر اور ترکی وغیرہ کا سفر کیا۔ اور ان اسفار کے انھوں نے سفر نامے تحریر کیے جو ماہنامہ الرسالہ کے صفحات میں شائع ہوئے۔

مولانا اپنے نظریات کی بنیاد پر کئی بار تنازعات کا بھی شکار رہے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ مخالفین کو علمی دلائل کے ساتھ قائل کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے پوری زندگی خاموشی کے ساتھ اپنے قلم کے سفر کو جاری رکھا اور دین اسلام کے سچے داعی بنے رہے۔ وہ ایک اعتدال پسند، متوازن اور تعمیرانہ رخ اختیار کرتے تھے۔ اپنی سادگی اور بیباکی کی وجہ سے مولانا ہر طبقہ میں مقبول رہے ہیں۔ مولانا اپنے بارے میں لکھتے ہیں:

”میری پوری زندگی پڑھنے، سوچنے اور مشاہدہ کرنے میں گزری ہے۔ شاید فطرت کا بھی اور انسانی تاریخ کا بھی۔ مجھے کوئی شخص تفکیری حیوان کہہ سکتا ہے۔ میری تفگیری زندگی کا ایک حصہ ہے جو الرساله يا كتب میں شائع ہوتا ہے۔ اس کا دوسرا نسبتاً غیر منظم ڈائریوں کے صفحات پر ہے“۔ (ماہ نامه الرساله)

وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کی وفات پر ٹوئٹر پر تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا: ”انھیں علم الہیات اور روحانیت کے معاملات پر بصیرت سے بھر پور علم کے لیے یاد کیا جائے گا۔ مولانا سماج کی خدمت اور معاشرے کو با اختیار بنانے کے قائل تھے۔ ان کے کنبہ اور انگنت خیر خواہوں سے تعزیت“۔

Twitter.com/narendramodi, 22 April, 2021

اسلامیات اور مغربیات دونوں قسم کے علوم سے بخوبی واقفیت حاصل کرنے کے بعد مولانا موصوف اس نتیجہ پر پہنچے کہ اس دور میں اسلام کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ جدید سائنسی دلائل سے اسلام کی حقانیت کو واضح کیا جائے اور عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر تیار کیا جائے اور پھر وہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page