Al-Risala · August 2021 · page 112

Twitter.com/narendramodi, 22 April, 2021

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۱۲

اس مہم میں لگ گئے۔ مولانا موصوف کے مطالعہ کا خاص موضوع اسلام اور دورِ جدید ہے۔ مولانا مرحوم نے اپنی پوری زندگی زندگی اسلام کی ترویج واشاعت، تبلیغ وتفہیم اور اس کی وضاحت میں صرف کردی۔ وہ پائے کے عالمِ دین، مفکر، ادیب، انشا پرداز تھے اور مختلف زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ مسلمانوں میں ان کا کام اور مقام سرسید، سید علی طنطاوی اور ڈاکٹر طہ حسین جیسے بڑے مفکروں سے کم نہیں تھا۔ عالمِ اسلام کے معروف مفکر، صحافی، ادیب، داعی اور سینکڑوں کتابوں کے مصنف مولانا وحید الدّین خاں اب اس دنیا سے چل بسے۔ ان کی آخری دریافت قابلِ ملاحظہ ہے:’’اس دنیا میں سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انسان دنیا کا سفر اس طرح کرے کہ اس کے دل میں کسی کے خلاف ذرہ برابر بھی کوئی منفی خیال نہ ہو۔ اس سے بڑی کوئی کامیابی نہیں کہ انسان دنیا سے اس طرح جائے کہ اس کا ذہن پوری طرح مثبت ہو۔ اس میں سب سے بڑی اچھائی مثبت فکر ہے اور سب سے بڑی برائی منفی سوچ ہے۔ یہی میری آخری دریافت ہے۔ ‘‘ ڈاکٹر محمد عقیل صاحب نے 15 سال قبل مولانا وحید الدّین خاں صاحب کا مجھ سے تعارف کرایا تھا، فجزاک اللہ خیراً۔ اس کے بعد میں اپنی طرف سے کوشش کرکے جہاں تک ہوسکا مستفید ہوتا رہا ہوں۔ مولانا وحید الدّین خاں صاحب دین کے خدمت کا ایک باب تھا جو اختتام کو پہنچا۔ مگر اُن کا کلام اور ان کی تصنیفات وہ روشنی ہے جو انہوں نے مختلف ذرائع سے موجودہ معاشرے کے لیے اور مستقبل کے نوجوانوں کے لیے اپنی وراثت میں چھوڑی ہے۔ یہ ہمیشہ رہنمائے ہدایت رہے گی، اور معاشرہ مستفید ہوتا رہے گا اور اُن کے مشن کو جاری رکھے گا۔ ان شاء اللہ۔ اللہ تعالی ان کے کارِ خیر کو جاری اور ساری رکھیں اور معاشرہ مستفید ہوتا رہے۔ آمین (عبد الرشید خان)

انہوں نے قرآن کو حقیقی طور پر پڑھنا سکھایا۔ اب اللہ تعالیٰ ہمیں اس پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ (سادنہ زیب، اسلام آباد)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page