Al-Risala · August 2021 · page 113

Twitter.com/narendramodi, 22 April, 2021

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۱۳

امن اور مولانا وحید الدین خان اداریہ، روزنامہ سالار بنگلور، 23 اپریل، 2021 امن ایک نہایت مطلوب چیز ہے اور تشدد ایک قابل نفرت چیز۔ ساری دنیا امن سے محبت کرتی ہے اور تشدد کو برا جانتی ہے۔ کوئی مفکر اگر اسے اپنا مشن بنالے اور اس کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کردے تو یقینی طور پر اسے جدید دور کی سب سے عظیم شخصیت قرار دیا جائے گا۔ اپنے ہم عصروں سے زبردست علمی اختلافات کے باوجود ہر حال میں اسلام کے امن و امان کے مشن کو عام کرنے میں ہندوستان کی عہد ساز شخصیت مولانا وحید الدین خان کا نام سر فہرست ہے بلکہ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اس میدان میں وہ اکیلے شہسوار تھے، جو ہندوستان جیسے ملک میں عدم تشدد کو کامیابی کے حصول کا واحد طریقہ سمجھتے تھے۔ وہ دعوتی اسلوب میں اپنی بات لکھنے اور کہنے کا وہی سلیقہ رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے قلم کے ذریعے نئی نسل کے سامنے اسلام کا تعارف جس خوبصورت انداز سے کرایا اور جدید تعلیم یافتہ طبقے کو اسلام کے قریب کرنے کا جو مثبت رویہ اختیار کیا، اس نے اپنی شناخت قائم کی اور ایک بڑے طبقے کو متاثر کیا، ان کی فکر کے کسی گوشے سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن اس میں کوئی دورائے نہیں کہ وہ دور حاضر کے عظیم ترین دانشوروں میں شمار ہوتے تھے، ان کی مختصر تحریریں قاری کو بہر طور متاثر کرتی تھیں۔ انھوں نے بہت منظم طریقہ پر اپنے دعوتی مشن کو مسلسل جاری رکھا، مخالف اور تیز ہواؤں کے باوجود صبر و ضبط کے ساتھ اپنے مشن کے چراغ کو جلائے رکھنے کا ہنر کوئی مولانا وحید الدین خاں سے سیکھے، وہ ہمیشہ سے مثبت سوچ کے حامی اور مبلغ رہے، ان سے بہت سے معاملات میں اختلاف رکھنے والے لوگ بھی ان کے علمی کمالات کے قائل رہے ہیں۔ ان کی امن سے متعلق خدمات کو بین الاقوامی سطح پر پہچان ملی تھی، انھیں جنوری 2021 میں پدم وبھوشن اور اس سے پہلے پدم بھوشن کے اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ مولانا وحید الدین خان کوڈیمور گس پیس انٹرنیشنل ایوارڈ، راجیو گاندھی قومی سدبھاونا ایوارڈ اور قومی شہری ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی، واشنگٹن ڈی سی کی 2009 کی 1500 انتہائی با اثر مسلمان کی ایک حالیہ کتاب میں بھی ان

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page