Al-Risala · August 2021 · page 114

Twitter.com/narendramodi, 22 April, 2021

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۱۴

کا نام" دنیا میں اسلام کے روحانی سفیر" کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔ وہ نہ صرف ہندوستانی مسلمانوں میں بلکہ غیر مسلموں میں بھی مقبول رہے ہیں۔ مولانا وحیدالدین خان صاحب اس دنیا سے چہارشنبہ کی شب رخصت ہو گئے، جو ملت اسلامیہ کے لیے ایک عظیم خسارہ ہے۔ مولانا مرحوم اپنی سادگی، منکسر المزاجی اور ملنساری کی بدولت ہر طبقہ کے لوگوں میں مقبول تھے۔ مولانا کو تقریر و تحریر دونوں میں ملکہ حاصل تھا۔ سادگی آپ کا خاص وصف تھا۔ سر پر عمامہ، ڈھیلے ڈھالے سفید رنگ کے لباس میں ملبوس رہنے والے مولانا وحیدالدین خان ایک بلند پایہ عالم دین، مقبول مفکر اور نامور صاحب قلم ہیں، انہوں نے اپنی دینی اور علمی خدمات کے گہرے نقوش چھوڑے ہیں جو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ قحط الرجال کے اس دور میں صاحب علم و کمال جیسی شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ مشہور عالم دین، بہترین مصنف، دانشور، اور روحانی قائد ہونے کے ساتھ ساتھ بڑی پرکشش شخصیت کے مالک تھے، اس سے بڑھ کر اخلاق کلہم عیال اللہ کے پاس دار تھے ان کی وفات یقیناً موت العالم موت العالم ہے۔ انہوں نے پوری زندگی احقاق حق و ابطال باطل کے لیے وقف کر دی تھی، مولانا مرحوم نے اپنے انفرادی انداز سے ملک و قوم کی جو ناقابل فراموش خدمات انجام دی ہیں وہ آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ وہ بہت معقول انداز میں اپنا مدعا پیش کر کے قاری کو اسیر بنا لیتے تھے، علم جدید کا چیلنج جیسی شاہ کار تصنیف خان صاحب کے فکر و فن اور معروضیت کو سمجھنے کے لیے وافی شافی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا وحیدالدین خاں کا انتقال دراصل ایک عہد کے خاتمہ کے ساتھ ملک و ملت کا عظیم خسارہ ہے۔ امت مسلمہ پر واجب ہے کہ وہ مولانا مرحوم کے دعوتی مشن کو آگے بڑھائے۔

جب جب مولانا وحیدالدین خان کے قرآن کے اردو و انگلش تراجم و دیگر کتب سے استفادہ کرتے رہیں گے انہیں دعاؤں میں یاد رکھیں گے۔ ( واصف، لاہور)

مولانا سے ملاقات تو نہیں ہوئی تھی، لیکن وہ ہمارے دلوں میں خون کی طرح بستے رہیں گے ۔ ان کی تصانیف سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہمیں بہت فائدہ پہنچایا ہے۔ ( مولانا فضل ربی، پاکستان)

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page