Al-Risala · August 2021 · page 115

Twitter.com/narendramodi, 22 April, 2021

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۱۵

علمی روایت کا بڑا آدمی اوریا مقبول جان، پاکستان بھارت کے شہر اعظم گڑھ میں یکم جنوری 1925ء کو پیدا ہونے والا آفتابِ علم ”مولانا وحید الدین خان‘‘، 21 اپریل 2021ء کو دلی میں ڈوب گیا اور میں باوجود، ارادہ، وسائل اور نیتِ شوق، بوریا نشین علماء جیسے ملبوس زیب تن کیے اور علم کی چمک سے روشن آنکھوں والے شخص کی براہِ راست ایک جھلک دیکھنے سے بھی محروم رہا۔ آج سے تقریباً چالیس سال قبل جب مولانا وحید الدین خان کی کتاب ”رازِ حیات‘‘ میرے ہاتھ آئی تو اس کا سحر ایسا تھا جیسے کوئی گھٹا ایک سمت سے چڑھے اور پھر پورے ماحول کو اپنی لپیٹ میں لے لے، اور اس کے اندر کھڑے ہوئے ایک فرحتِ پایا کا احساس آپ کو سرمستی کے عالم میں لے جائے۔ میں سوچتا تھا کہ کتاب کا یہ حال ہے تو صاحبِ کتاب کی صحبت کا عالم کیا ہوگا۔ میں اس سے پہلے ایک انتہائی حسین تجربے سے گزر چکا تھا۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی چند کتابیں پڑھنے کے بعد جب میں اچھرہ میں ان کی محفل میں پہلی دفعہ شریک ہوا تو مجھے یوں لگا جیسے میں یک دم ان کے عشق میں گرفتار ہو چکا ہوں۔ چہرے سے نظریں اٹھانے کو جی نہیں چاہتا تھا اور گفتگو کا سحر ایسا، جس کے ٹوٹنے کا خوف ہی مجھے مزید ان کی جانب متوجہ کرتا چلا جا رہا تھا۔ مولانا وحید الدین خان کی ویڈیو گفتگو جب میں نے سننا شروع کی تو مجھے اپنی مجبوریوں کا احساس شدید ہوتا چلا گیا۔ میں چاہتا تھا، یہ شخص اس ٹیلی ویژن سیٹ سے باہر نکل آئے، میرے سامنے کرسی پر آ کر بیٹھ جائے اور میں زمین پر بیٹھ کر مبہوت ہو کر اس کی گفتگو سنوں، اس سے سوال کروں، میرے ساتھ مشتاقانِ علم کا ایک ہجوم ہو جو اسی طرح اسے سن رہا ہو، سوال کر رہا ہو۔ آج سوچتا ہوں کہ میں اگر اس کے شہر میں موجود ہوتا تو میری حالت اس طالبِ علم کی سی ہوتی جو یوں تو حسن بصری کے مدر سے کا خوشہ چیں ہوتا، لیکن چھپ کر وقت نکالت اور معتزلہ کے امام واصل بن عطاء کی باتیں سننے چلا جاتا۔ علی گڑھ میں ڈگری کے حصول کے لیے داخل ہوتا، لیکن شام میں مولانا محمود الحسن کے دیوبند میں گزارتا اور علم کی پیاس بجھاتا۔

مولانا وحید الدین خان سے اتنی بندشوں کے باوجود بھی جو علم مجھے ملا ہے وہ اتنا بڑا سرمایہ ہے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page