Al-Risala · August 2021 · page 117

Twitter.com/narendramodi, 22 April, 2021

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۱۷

مولانا وحید الدین خاں امجد اسلام امجد، پاکستان یہ بات تو ہم سب نے بہت دفعہ پڑھی اور سنی ہے کہ ایک عالم کی موت پورے عالم کی موت کی تمثیل بن جاتی ہے۔ لیکن عملی طور پر اس احساس کی شدت کبھی کبھار ہی اس تاثر کو وہ رنگ دے پاتی ہے کہ آپ کو لفظ اور معانی ایک دوسرے کی ایسی بھرپور گواہی دیتے نظر آئیں، جن سے اس دعوے کی مکمل تائید ہوتی، ہو ورنہ عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ مرحوم کی پہلی برسی سے پہلے پہلے بیشتر لوگ جانے والوں کے نام تک بھول جاتے ہیں۔ البتہ جہاں تک حال ہی میں سفر آخرت اختیار کرنے والے مولانا وحید الدین خان صاحب کا تعلق تو میرے خیال میں ہر اہل نظر اس بات کی کھل کر تائید کرے گا کہ مولانا اس وقت اسلامی دنیا بالخصوص برصغیر کے مسلمان علما میں سب سے معتبر اور توانا شخصیت تھے۔ اس عہد کے ایک اور جید اور بڑے عالم جاوید احمد غامدی کا اُن کے بارے میں ایک بیان آج ہی فیس بک پر نظر سے گزرا، جس میں انھوں نے مولانا مرحوم کے علمی مقام اور مذہبی خدمات پر جس محبت اور فراخدلی سے پر توصیف روشنی ڈالی وہ سننے کے قابل تھی۔

بلاشبہ مولانا مودودی کے بعد اپنی تصانیف کی تعداد، موضوعات اور معیار کے حوالے سے کوئی دوسرا عالم دین ہمیں اُس رُتبے پر نظر نہیں آتا جس پر مولانا وحید الدین فائز تھے۔ جدید دور میں اسلام اور قرآن کی تفسیر اور تفہیم اور اس کے خلاف ہونے والی بین الاقوامی سازشوں کا جس مہارت، خوبی، وضاحت سے مولانا نے جواب دیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔

یوٹیوب کی معرفت اُن کے بہت سے وعظ، لیکچر اور گفتگوئیں سننے کا موقع ملا ہے۔ لیکن آج غامدی صاحب کے احساس دلانے پر خیال آیا ہے کہ واقعی رب کریم نے اُن کو ایک ایسی منفرد، میٹھی، پر اثر اور دل کو موہ لینے والی آواز عطا کی تھی کہ اُن کی آواز اپنے مطالب و معانی سے ہٹ کر بھی اپنے اندر ایک عجیب کشش رکھتی تھی کہ بہت کم مردانہ آوازیں اور وہ بھی تحت اللفظ میں اتنی خوب صورت ہوتی ہیں کہ بقول شاعر وہ کہیں اور سُنا کرے کوئی۔ ابھی ابھی میں نے اپنی یادداشت تازہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page