Twitter.com/narendramodi, 22 April, 2021
الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۱۹
مولانا وحید الدین خاں: آفتاب علم وعرفاں افضال ریحان، پاکستان آفتاب علم وعرفاں، حضرت مولانا وحید الدین خاں ایک بھر پور زندگی گزارنے کے بعد دہلی سے اُس ملک عدم تشریف لے گئے ہیں جہاں سے کبھی کوئی واپس نہیں لوٹ سکتا۔ 21 اپریل 2021ء، 8 رمضان المبارک بروز بدھ انڈین ٹائم کے مطابق رات پونے دس بجے کو رونا کے باعث حضرت مولانا اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے ۔ مولانا سے بڑی خوبصورت یادیں وابستہ ہیں لیکن یہ حسرت ہی رہی کہ دو چار ہفتے امن وسلامتی کے روحانی مرکز میں مولانا کے ساتھ گزارے جائیں کئی مرتبہ پروگرام بنا پھر رہ گیا۔
2006 میں سیفما ڈیلی گیشن کے ساتھ دہلی اور حیدر آباد دکن جانے کا موقع ملا تو دیگر سرگرمیوں کو ترک کر کے کر مولانا سے ملاقات کی تیاری کی۔ کیونکہ نا چیز کی ہند یاترا کا اصل مدعا ہی مولانا سے ملاقات تھی، اور اُنہیں اس سلسلے میں آگاہ کر رکھا تھا۔ جس وقت میں مولانا کی رہائش گاہ پر پہنچا، وہ آرام کے لیے بالائی منزل پر تشریف لے جا چکے تھے۔ اطلاع ہونے پر وہیں بلا لیا، مولانا سے یہ ملاقات زندگی کا بہترین اثاثہ ہے ۔ یہ انمول لمحات کبھی بھول نہیں سکتا ۔ اُن سے ملاقات کے دوران جو باتیں ہوئیں وہ اگر چہ روایتی مولویانہ اسلوب و موقف سے ہٹ کر تھیں مگر راز حیات ہی نہیں حاصل زندگی کہی جاسکتی ہیں۔ میرے لیے حضرت مولانا، سرسیدثانی کی حیثیت رکھتے تھے۔ 2004 میں درویش کی پہلی کتاب اسلامی تہذیب بمقابلہ مغربی تہذیب حریف یا حلیف؟ شائع ہوئی ۔ اس کا دیباچہ لکھوانے کے لیے مسودہ حضرت مولانا کے پاس دہلی بھیجا تھا، فون پر بات ہوئی تو بولے میں نے تمام مسودہ حرف بہ حرف پڑھا ہے، اس پر دیباچے کی کتنی گنجائش ہے؟ ۔ عرض کی، مولانا ڈھیر ساری گنجائش ہے۔ آپ وضاحت سے لکھیے تب مولانا نے جو کچھ لکھا، وہ ان کی یادگار تحریروں میں سے ایک ہے (دیکھیے الرسالہ دسمبر 2004 بعنوان: دیباچہ، صفحہ 27-16)۔ مولانا کی تحریروں پر بات کی جائے تو وہ ایک سے بڑھ کر ایک ہیں، ان کی خالص الہیات کو ایک جانب رکھ
‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues