Al-Risala · August 2021 · page 120

Twitter.com/narendramodi, 22 April, 2021

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۲۰

دیا جائے پھر بھی شعور کو جلا بخشنے والے افکار منفرد ہیں، جیسے کوئی مولانا نہیں ماہر نفسیات بول رہا ہو۔ بلاشبہ بہت سے لوگ ان سے اس بنا پر محبت کرتے ہوں گے کہ انہوں نے قرآنی تفسیر، احادیث اور بالخصوص سیرت پر بھر پور کام کیا لیکن ساتھ ہی ایسے افراد کی بھی کمی نہیں، جوان کی اس ساری کاوش کو غصے سے دیکھتے ہوں گے کہ انہوں نے سوچوں کے نئے درچے کیوں واکیے؟ اس طرح فقہی مباحث میں انہوں نے جس خوبصورتی سے عصری و زمانی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھا ہے یہ انہی کا شعوری مرتبہ، حوصلہ و جگر تھا۔ ہندوستان میں یکبارگی تین طلاقوں کے مسئلہ پر لوک سبھا سے لے کر قانونی و عوامی کٹہروں تک جو بھی مباحثے ہوئے، مولانا نے کمال فراست اور خوبصورتی سے روایت کو پورے استدلال کے ساتھ نہ صرف راہ اعتدال دکھائی بلکہ حقوق نسواں کی پاسداری بھی کی۔ مذہبیت کو قائم و دائم رکھتے ہوئے آپ کیسے لبرل، سیکولر اور سوسائٹی کے لیے کار آمد انسان بن سکتے ہیں؟ اس رمز کو جس خوبصورتی سے مولانا صاحب نے کھولا ہے فی زمانہ شاید ہی کوئی دوسرا اس نوع کا کارنامہ سر انجام دے سکے۔ مولانا نے زندگی بھر منافرت و اجنبیت کی دیواریں توڑیں اور محبت و اپنائیت کے پل تعمیر کئے۔ انہوں نے ہندو مسلم کے درمیان کھودی گئی گہری کھائی کو پٹنے کی کاوش فرمائی۔ مغرب اور عالم اسلام میں موجود فکری دونی کو مٹانے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ وہ زندگی بھر مدر ٹریسا، رسل اور ٹیگور کی مانند محبتیں بانٹتے رہے۔ درویش نے ایک مرتبہ آرٹیکل لکھا تھا دورِ حاضر کی پانچ بڑی شخصیات، مولانا ان میں سے ایک تھے۔ مسلمانوں میں ان کا کام اور مقام سرسید، سید علی طنطاوی اور ڈاکٹر طاہر حسین جیسے بڑے مفکروں سے کم نہیں تھا۔ آج وہ گئے ہیں اور یقیناً انہوں نے جانا ہی تھا تو وہ قلبی طمانیت سے گئے ہیں اور اس قول کی مطابقت میں گئے ہیں کہ میرے سامنے کسی کی برائی نہ کرو تا کہ میں دنیا سے جاؤں تو میرا دل کسی سے کھٹا نہ ہو۔ ان کی آخری دریافت قابل ملاحظہ ہے— اس دنیا میں سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انسان دنیا کا سفر اس طرح کرے کہ اس کے دل میں کسی کے خلاف ذرہ برابر بھی کوئی منفی خیال نہ ہو۔ اس سے بڑی کوئی کامیابی نہیں کہ انسان دنیا سے اس طرح جائے کہ اس کا ذہن پوری طرح مثبت ہو۔ اس میں سب سے بڑی اچھائی مثبت فکر ہے اور سب سے بڑی برائی منفی سوچ ہے۔ یہی میری آخری دریافت ہے۔ میں مولانا کی انسان نواز فکر و سوچ کو سلام پیش کرتا ہوں۔ [بشکریہ: روزنامہ جنگ]

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page