Done is Undone
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۱، صفحہ ۴۴
سفر کیا تھا۔ اس دوران مدینہ کا سفر ہوا تو مدینہ یونیورسٹی کے طلبہ کے ساتھ ایک میٹنگ ہوئی، جس میں زیادہ تر ہندوستانی طلبہ اور کچھ عرب طلبہ شریک تھے۔
گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں جو لوگ حکومت اسلامی قائم کرنے کی تحریک چلا رہے ہیں، ان کی تحریک بالفرض کامیاب ہو جائے تب بھی وہ ناکام رہے گی۔ کیوں کہ حکومت کو چلانے کے لیے وہ تقویٰ کافی نہیں ہے، جو مسجد کی امامت یا مدرسہ کی معلمی کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ حکومت کا ادارہ چلانے کے لیے جس صفت کی ضرورت ہے، وہ ہے تقویٰ پلس دانش مندی کی صفت، اور یہ صفت آج کسی مسلم رہنما کے اندر موجود نہیں۔
اس پر ایک عرب نوجوان نے اعتراض کیا۔ انھوں نے اخوان المسلمون اور جماعت اسلامی کے اکابر کا نام لیا، اور کہا کیا آپ کا خیال ہے کہ ان کے اندر تقویٰ موجود نہیں۔ میں نے کہا کہ تقویٰ ہے، مگر وہ عملی حکمت (practical wisdom) سے خالی ہے۔ وہ نوجوان اس کو سمجھ نہیں پائے، اور ناراض ہو گئے۔
مجھے فوری طور پر ندامت ہوئی ۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں نے حکمت کے خلاف ایک بات کہہ دی۔ مگر بار بار کے تجربے کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت میری زبان سے جو بات نکلی تھی وہ عین صحیح بات تھی۔ موجودہ زمانے میں ہمارے تقریبا تمام قائدین کا یہی حال ہو رہا ہے کہ ان پاس تقویٰ کا سرمایا تھا، مگر وہ پریکٹیکل وزڈم سے خالی تھے۔ اس کے باوجود بڑے بڑے میدانوں میں کود پڑے اور بالآخر سراسر نا کام رہے۔ (اس سفر کا مطالعہ کرنے کے لیے دیکھیے راقم الحروف کی کتاب سفر نامہ غیر ملکی اسفار جلد اول صفحہ 50)۔
انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ جو شخص حکومت کو چیلنج کرے وہ فوراً عوام کے اندر مقبولیت حاصل کر لیتا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ حقیقت ہے کہ یہ عوامی مقبولیت ان کے لیے فتنہ بن جاتی ہے۔ یہی معاملہ مسلم ورلڈ میں بھی پیش آیا۔ چنانچہ واقعہ بتا تا ہے کہ بہت سے مسلم دینی رہنما اس قسم کی تحریکوں
‹ Previous page Next page › Contents of January 2021 All issues