Al-Risala · August 2021 · page 121

Twitter.com/narendramodi, 22 April, 2021

الرسالہ، اگست ۲۰۲۱، صفحہ ۱۲۱

عجیب شخص تھا حیران کر گیا سب کو ڈاکٹر محمد وقار عالم ، سی پی ایس (نیو یارک)، امریکہ بیسویں اور اکیسویں صدی میں جب کہ سائنس اور تمدن اپنے عروج پر ہے، روایتی مدرسے کا ایک طالب علم صدیوں پیچھے جا کر خدا کو تلاش کرتا ہے اور موجودہ صدی کے طالب علم کے سامنے خدا کو اس طرح پیش کرتا ہے کہ انکار کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا۔ اس طالب علم کا نام مولانا وحید الدین خان ہے۔ آج خدا کا متلاشی صدیوں پیچھے جا کر اگر خدا کو پا بھی لے، تو اسے اپنے دور میں فٹ نہیں کر پاتا۔ دو یا تین جوڑے کپڑے، ایک عمامہ اور ایک جوتا پہن کر دنیا بھر کا سفر کیا۔ فرش پر سونے والا اور سادہ کھانا کھانے والا خلیج کے ایک شاہ کا مہمان ہونے پر شاہی بستر، کھانا اور آسائشیں برداشت نہ کرسکا اور ان نعمتوں کو چھوڑ کر گھر واپس چلا گیا۔ یہ رویہ ایک عام انسان کا نہیں ہو سکتا، یہ وہی انسان کرے گا جسے اپنا خدا مل چکا ہو۔ نیو یارک میں میرے گھر میں قیام کے دوران سختی سے ہدایت کی تھی کہ جو عام دنوں میں پکتا ہے وہی پکے گا۔ یہ فقیر اور اللہ کا دوست اپنے پیچھے علم کا ایک ایسا خزانہ چھوڑ گیا جو ہر متلاشی دین اور خدا کی پیاس بجھا تا رہے گا۔

قدیم علم اور جدید فکر کو ایک ایسے سنگم پہ لاکھڑا کیا کہ آج کے طالب علم کو ہر سوال کا جواب مل گیا۔ مولانا محترم بیسوی صدی سے اکیسویں صدی میں جدید علم سے مسلح ہو کر داخل ہوئے تھے، جس کی گواہ اُن کی کتابیں ہیں۔ آپ نے جدید علوم کو کھنگال ڈالا اور بجائے منفی خیالات کے آپ نے اپنے کھلے ذہن سے اسے دین کے قریب پایا اور دنیا کو سمجھایا کہ سائنس خدا کو تلاش کرنے اور اسے پانے میں مدد دیتی ہے۔ درست سوچ اور سچ کو سچ سمجھ کر اس پر ڈٹ جانے والے اس شخص نے زمانے سے سمجھوتے کے بجائے اسے درست سمت میں چلنے کا طریقہ اور حوصلہ دیا، چاہے وہ اسلام کی سیاسی تعبیر کا معاملہ ہو یا بابری مسجد کا مسئلہ، مولانا نہ صرف اصولی موقف پر کھڑے رہے بلکہ عوام کے لیے انتہائی مدلل انداز میں اپنے موقف کو تحریری شکل میں پیش بھی کیا ، مولانا محترم کے بہت سے عظیم کاموں میں ایک بڑا کام یہ ہے کہ انہوں نے غیر مسلم

‹ Previous page Next page › Contents of August 2021 All issues

Printed page